اور اس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انھوں نے کہا انھیں اپنی بستی سے نکال دو، بے شک یہ ایسے لوگ ہیں جو بہت پاک بنتے ہیں۔
En
تو ان سے اس کا جواب کچھ نہ بن پڑا اور بولے تو یہ بولے کہ ان لوگوں (یعنی لوط اور اس کے گھر والوں) کو اپنے گاؤں سے نکال دو (کہ) یہ لوگ پاک بننا چاہتے ہیں
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَمَاكَانَجَوَابَقَوْمِهٖۤاِلَّاۤاَنْقَالُوْۤااَخْرِجُوْهُمْمِّنْقَرْیَتِكُمْ١ۚاِنَّهُمْاُنَاسٌیَّ٘تَ٘طَ٘هَّرُوْنَ۠ ﴾”اور نہیں تھا جواب اس قوم کا مگر یہ کہ ان کو اپنی بستی سے نکال دو، یہ لوگ بہت ہی پاک رہنا چاہتے ہیں “ یعنی اپنے آپ کو اس فحش کام سے دور رکھنا چاہتے ہیں ﴿ وَمَانَقَمُوْامِنْهُمْاِلَّاۤاَنْیُّؤْمِنُوْابِاللّٰهِالْ٘عَزِیْزِالْحَمِیْدِ﴾ (البروج:85؍8) ”وہ ان پر صرف اسی بات پر ناراض ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے جو غالب اور قابل ستائش ہے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وما كانَ جوابَ قومِهِ إلَّا أن قالوا أخرِجوهِم من قريتِكُم إنَّهم أناسٌ يتطهَّرونَ}؛ أي: يتنزَّهون عن فعل الفاحشة، {وما نَقَموا منهم إلاَّ أن يؤمنوا باللهِ العزيز الحميد}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔