تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 80

وَ لُوۡطًا اِذۡ قَالَ لِقَوۡمِہٖۤ اَتَاۡتُوۡنَ الۡفَاحِشَۃَ مَا سَبَقَکُمۡ بِہَا مِنۡ اَحَدٍ مِّنَ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۸۰﴾
اور لوط کو (بھیجا)، جب اس نے اپنی قوم سے کہا کیا تم اس بے حیائی کا ارتکاب کرتے ہو جو تم سے پہلے جہانوں میں سے کسی نے نہیں کی۔ En
اور اسی طرح جب ہم نے لوط کو (پیغمبر بنا کر بھیجا تو) اس وقت انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم ایسی بےحیائی کا کام کیوں کرتے ہو کہ تم سے اہل عالم میں سے کسی نے اس طرح کا کام نہیں کیا
En
اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کو بھیجا جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم ایسا فحش کام کرتے ہو جس کو تم سے پہلے کسی نے دنیا جہان والوں میں سے نہیں کیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَلُوْطًا یعنی ہمارے بندے لوط علیہ السلام کا ذکر کیجیے جب ہم نے ان کو ان کی قوم کی طرف مبعوث کیا کہ وہ انھیں صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیں اور انھیں اس برائی سے روکیں جو پورے جہان میں ان سے پہلے کسی نے نہیں کی۔ لوط علیہ السلام نے کہا! ﴿ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ کیا تم کرتے ہو ایسی بے حیائی یعنی تم ایک ایسے گناہ کا ارتکاب کرتے ہو جس کی قباحت اتنی زیادہ ہے کہ فواحش کی تمام اقسام کو اس نے اپنے اندر سمیٹ لیا ہے۔ ﴿ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ کہ تم سے پہلے نہیں کیا اس کو کسی نے جہان میں اس کا فحش ہونا قبیح ترین چیز ہے اور یہ کہ اس قبیح فعل کو ان لوگوں نے شروع کر کے بعد میں آنے والوں کے لیے رواج دیا تھا، اس سے بھی قبیح تر ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: {و} اذكر عبدنا {لوطاً}: عليه الصلاة والسلام؛ إذ أرسلناه إلى قومه؛ يأمُرُهم بعبادة الله وحدَه، وينهاهم عن الفاحشة التي ما سبقَهم بها أحدٌ من العالمين؛ فقال: {أتأتونَ الفاحشةَ}؛ أي: الخصلة التي بلغت في العِظَم والشَّناعة إلى أن استغرقتْ أنواعَ الفحش، {ما سَبَقَكم بها من أحدٍ من العالمين}: فكونُها فاحشةً من أشنع الأشياء، وكونُهم ابتدعوها، وابتَكَروها، وسَنُّوها لمن بعدَهم من أشنع ما يكونُ أيضاً.