انھوں نے کہا کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ ہم اس اکیلے اللہ کی عبادت کریں اور انھیں چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے تھے؟ تو جس کی دھمکی تو ہمیں دیتا ہے وہ ہم پر لے آ، اگر تو سچوں میں سے ہے۔
En
وہ کہنے لگے کہ تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہم اکیلے خدا ہی کی عبادت کریں۔ اور جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے چلے آئے ہیں ان کو چھوڑ دیں؟ تو اگر سچے ہو تو جس چیز سے ہمیں ڈراتے ہو اسے لے آؤ
انہوں نے کہا کہ کیا آپ ہمارے پاس اس واسطے آئے ہیں کہ ہم صرف اللہ ہی کی عبادت کریں اور جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے تھے ان کو چھوڑ دیں، پس ہم کو جس عذاب کی دھمکی دیتے ہو اس کو ہمارے پاس منگوا دو اگر تم سچے ہو
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جناب ہود علیہ السلام نے ان کو نصیحت کی، ان کو توحید کا حکم دیا اور ان کے سامنے خود اپنے اوصاف بیان کیے اور فرمایا کہ وہ ان کے لیے نہایت امانت دار خیر خواہ ہے۔ انھیں اس بات سے ڈرایا کہ کہیں اللہ تعالیٰ ان کا اسی طرح مواخذہ نہ کرے جس طرح اس نے ان سے پہلی قوموں کا مواخذہ کیا ہے۔ ان کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلائیں اللہ تعالیٰ کا احسان یاد دلایا جو وافر رزق کی صورت میں ان پر کیا گیا۔ مگر انھوں نے جناب ہود علیہ السلام کی اطاعت کی نہ ان کی دعوت کو قبول کیا۔
﴿ قَالُوْۤا ﴾ انھوں نے ہود علیہ السلام کی دعوت پر تعجب کرتے اور ان کو خبردار کرتے ہوئے کہ یہ بہت محال ہے کہ وہ ان کی اطاعت کریں، کہا ﴿ اَجِئْتَنَالِنَعْبُدَاللّٰهَوَحْدَهٗوَنَذَرَمَاكَانَیَعْبُدُاٰبَآؤُنَا ﴾”کیا تو ہمارے پاس اس واسطے آیا کہ ہم صرف ایک اللہ کی بندگی کریں اور ان کو چھوڑ دیں جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے رہے“ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے کہ انھوں نے اس امر کے مقابلے میں، جو سب سے زیادہ واجب اور سب سے زیادہ کامل ہے، اس مذہب کو پیش کیا جس پر انھوں نے اپنے آباء و اجداد کو گامزن پایا۔ اپنے گمراہ آباء و اجداد کے شرک اور عبادت اصنام کو انبیا و مرسلین کی دعوت یعنی اللہ وحدہ لا شریک کی توحید پر ترجیح دی اور اپنے نبی کو جھٹلایا اور کہنے لگے ﴿ فَاْتِنَابِمَاتَعِدُنَاۤاِنْكُنْتَمِنَالصّٰؔدِقِیْنَ ﴾”پس لے آ تو ہمارے پاس جس چیز سے تو ہم کو ڈراتا ہے، اگر تو سچا ہے“ یہ مطالبہ خود ان کی طرف سے تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فوعظهم وذكَّرهم وأمرهم بالتوحيد وذكر لهم وصف نفسه وأنه ناصح أمين، وحذَّرهم أن يأخذهم اللهُ كما أخذ من قبلهم، وذكَّرهم نعم الله عليهم وإدرار الأرزاق إليهم، فلم ينقادوا ولا استجابوا، فقالوا متعجِّبين من دعوته ومخبرين له أنهم من المحال أن يطيعوه: {أجئتَنا لنعبدَ اللهَ وحدَهُ ونَذَرَ ما كان يعبدُ آباؤنا}: قبَّحهم الله، جعلوا الأمر الذي هو أوجبُ الواجبات وأكملُ الأمور من الأمور التي لا يعارضون بها ما وجدوا عليه آباءهم، فقدَّموا ما عليه الآباء الضالون من الشرك وعبادة الأصنام على ما دعت إليه الرسل من توحيد الله وحده لا شريك له وكذبوا نبيهم وقالوا: {ائتنا بما تعِدُنا إن كنتَ من الصادقين}: وهذا الاستفتاحُ منهم على أنفسهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔