اور کیا تم نے عجیب سمجھا کہ تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے تم میںسے ایک آدمی پر عظیم الشان نصیحت آئی، تاکہ وہ تمھیں ڈرائے اور یاد کرو جب اس نے تمھیں نوح کی قوم کے بعد جانشین بنایا اور تمھیں قد و قامت میں زیادہ پھیلاؤ دیا۔ سو اللہ کی نعمتیں یاد کرو، تاکہ تم فلاح پاؤ۔
En
کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس نصیحت آئی تاکہ وہ تمہیں ڈرائے اور یاد کرو تو کرو جب اس نے تم کو قوم نوح کے بعد سردار بنایا۔ اور تم کو پھیلاؤ زیادہ دیا۔ پس خدا کی نعمتوں کو یاد کرو۔ تاکہ نجات حاصل کرو
اور کیا تم اس بات سے تعجب کرتے ہو کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس ایک ایسے شخص کی معرفت، جو تمہاری ہی جنس کاہے کوئی نصیحت کی بات آگئی تاکہ وه شخص تم کو ڈرائے اور تم یہ حالت یاد کرو کہ اللہ نے تم کو قوم نوح کے بعد جانشین بنایا اور ڈیل ڈول میں تم کو پھیلاؤ زیاده دیا، سو اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو تاکہ تم کو فلاح ہو
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿اَوَعَجِبْتُمْاَنْجَآءَكُمْذِكْرٌمِّنْرَّبِّكُمْعَلٰىرَجُلٍمِّؔنْكُمْلِیُنْذِرَؔكُمْ ﴾”کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمھارے رب کی طرف سے تمھارے پاس نصیحت آئی تاکہ وہ تمھیں ڈرائے۔“ یعنی تم ایسے معاملے میں کیوں کر تعجب کرتے ہو جس پر تعجب نہیں ہونا چاہیے اور وہ معاملہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم ہی میں سے ایک شخص کو جس کو تم خوب جانتے ہو، تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے، وہ تمھیں ان باتوں کی یاد دہانی کراتا ہے جن میں تمھارے مصالح پنہاں ہیں اور تمھیں ان امور کی ترغیب دیتا ہے جن میں تمھارے لیے فائدہ ہے اور تم اس پر اس طرح تعجب کرتے ہو جیسے منکرین تعجب کرتے ہیں۔ ﴿ وَاذْكُرُوْۤااِذْجَعَلَكُمْخُلَفَآءَمِنْۢبَعْدِقَوْمِنُوْحٍ ﴾”اور یاد کرو جبکہ تم کو جانشین بنایا قوم نوح کے بعد“ یعنی تم اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کرو اور اس کا شکر ادا کرو کیونکہ اس نے تمھیں زمین میں اقتدار عطا کیا اور اس نے تمھیں ہلاک ہونے والی قوموں کا جانشین بنایا جنھوں نے رسولوں کو جھٹلایا تھا اللہ تعالیٰ نے ان کو اس پاداش میں ہلاک کر دیا اور تمھیں باقی رکھا تاکہ وہ دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔ تم رسولوں کی تکذیب پر جمے رہنے سے بچو، جیسے وہ جمے رہے ورنہ تمھارے ساتھ بھی وہی سلوک ہوگا جو ان کے ساتھ ہوا تھا۔
اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد رکھو جو اس نے تمھارے لیے مختص کی اور وہ نعمت یہ ہے ﴿ وَّزَادَؔكُمْفِیالْخَلْقِبَصْۜطَةً ﴾”اس نے زیادہ کر دیا تمھارے بدن کا پھیلاؤ“ یعنی اس نے تمھیں بہت زیادہ قوت، بڑے بڑے مضبوط جسم اور نہایت سخت پکڑ عطا کی۔ ﴿ فَاذْكُرُوْۤااٰلَآءَاللّٰهِ ﴾”پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو۔“ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی بے پایاں نعمتوں اور اس کے مکرر احسانات کو یاد رکھو ﴿ لَعَلَّكُمْ ﴾”تاکہ تم“ یعنی اگر تم ان نعمتوں کو شکر گزاری کے ساتھ اور ان کا حق ادا کرتے ہوئے یاد رکھو گے ﴿ تُفْلِحُوْنَ﴾”کامیاب ہو جاؤ“ یعنی اپنے مطلوب و مقصود کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاؤ گے اور اس چیز سے نجات پا لو گے جس سے ڈرتے ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{أوَعَجِبْتُم أن جاءكم ذِكْرٌ من ربِّكم على رجل منكُم لِيُنذِرَكُم}؛ أي: كيف تعجبون من أمر لا يُتَعَجَّبُ منه، وهو أن الله أرسل إليكم رجلاً منكم، تعرفون أمره، يذكِّركم بما فيه مصالحكم، ويحثُّكم على ما فيه النفع لكم، فتعجَّبتم من ذلك تعجُّب المنكرين. {واذْكُروا إذْ جَعَلَكم خلفاء من بعد قوم نوح}؛ أي: واحمدوا ربَّكم، واشكُروه إذ مَكَّنَ لكم في الأرض، وجعلكم تخلُفون الأمم الهالكة الذين كذَّبوا الرسل، فأهلكهم الله، وأبقاكم لينظر كيف تعملون، واحذروا أن تقيموا على التكذيب كما أقاموا، فيصيبكم ما أصابهم، {و} اذكروا نعمة الله عليكم التي خصَّكم بها، وهي أن {زادكم في الخلق بَسْطَةً}: في القوة وكبر الأجسام وشدَّة البطش، {فاذكُروا آلاءَ اللهِ}؛ أي: نعمه الواسعة وأياديه المتكررة، {لعلَّكُم}: إذا ذَكَرْتُموها بشكرها وأداء حقِّها، {تفلحونَ}؛ أي: تفوزون بالمطلوب، وتنجون من المرهوب.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔