اس نے کہا یقینا تم پر تمھارے رب کی طرف سے بھاری عذاب اور غضب آپڑا ہے، کیا تم مجھ سے ان ناموں کے بارے میں جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمھارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں، جن کی کوئی دلیل اللہ نے نازل نہیں فرمائی۔ تو انتظار کرو، بے شک میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔
En
ہود نے کہا تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر عذاب اور غضب کا (نازل ہونا) مقرر ہو چکا ہے۔ کیا تم مجھ سے ایسے ناموں کے بارے میں جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے (اپنی طرف سے) رکھ لئے ہیں۔ جن کی خدا نے کوئی سند نازل نہیں کی۔ تو تم بھی انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں
انہوں نے فرمایا کہ بس اب تم پر اللہ کی طرف سے عذاب اور غضب آیا ہی چاہتا ہے کیا تم مجھ سے ایسے ناموں کے باب میں جھگڑتے ہو جن کو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے ٹھہرالیا ہے؟ ان کے معبود ہونے کی اللہ نے کوئی دلیل نہیں بھیجی۔ سو تم منتظر رہو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کر رہا ہوں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿قَالَ ﴾ ہود علیہ السلام نے ان سے کہا ﴿ قَدْوَقَ٘عَعَلَیْكُمْمِّنْرَّبِّكُمْرِجْسٌوَّغَضَبٌ ﴾”تم پر واقع ہو چکا ہے تمھارے رب کی طرف سے عذاب اور غصہ“ یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب کا واقع ہونا اٹل ہے کیونکہ اس کے اسباب وجود میں آگئے اور ان کی ہلاکت کا وقت قریب آ گیا۔ ﴿اَتُجَادِلُوْنَنِیْفِیْۤاَسْمَآءٍسَمَّیْتُمُوْهَاۤاَنْتُمْوَاٰبَآؤُكُمْ ﴾”کیا تم مجھ سے ایسے ناموں کے بارے میں جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمھارے باپ دادا نے خود رکھ لیے ہیں۔“ یعنی تم ایسے امور میں میرے ساتھ کیوں کر جھگڑتے ہو جن کی کوئی حقیقت نہیں اور ان بتوں کے بارے میں میرے ساتھ کیسے بحث کرتے ہو جن کو تم نے معبودوں کے نام سے موسوم کر رکھا ہے حالانکہ ان کے اندر الوہیت کی ذرہ بھر بھی صفت نہیں ﴿ مَّانَزَّلَاللّٰهُبِهَامِنْسُلْ٘طٰ٘نٍ﴾”اللہ نے ان پر کوئی دلیل نہیں اتاری“ کیونکہ اگر یہ واقعی معبود ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی تائید میں ضرور کوئی دلیل نازل فرماتا۔ پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے دلیل کا عدم نزول، ان کے باطل ہونے کی دلیل ہے۔ کیونکہ کوئی ایسا مطلوب و مقصود نہیں۔۔۔خاص طور پر بڑے بڑے امور۔۔۔ جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے دلائل و براہین کو بیان نہ فرما دیا ہو اور ایسی حجت نازل نہ فرما دی ہو جس کے ہوتے مطلوب و مقصود مخفی نہیں رہ سکتا۔
﴿ فَانْتَظِرُوْۤا ﴾”پس تم انتظار کرو۔“ یعنی پس اس عذاب کا انتظار کرو جو تم پر ٹوٹ پڑنے والا ہے جس کا میں نے تمھارے ساتھ وعدہ کیا ہے ﴿ اِنِّیْمَعَكُمْمِّنَالْ٘مُنْتَظِرِیْنَ﴾”میں بھی تمھارے ساتھ منتظر ہوں “ اور انتظار کی دونوں اقسام میں فرق ہے ایک انتظار اس شخص کا انتظار ہے جو عذاب کے واقع ہونے سے ڈرتا ہے دوسرا انتظار اس شخص کا انتظار ہے جو اللہ تعالیٰ کی مدد اور ثواب کا امیدوار ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فقال لهم هودٌ عليه السلام: {قد وَقَعَ عليكم من ربِّكم رجْسٌ وغضبٌ}؛ أي: لا بدَّ من وقوعه؛ فإنه قد انعقدت أسبابه وحان وقتُ الهلاك. {أتجادِلونَني في أسماءٍ سمَّيْتموها أنتم وآباؤكم}؛ أي: كيف تجادلون على أمور لا حقائق لها وعلى أصنام سمَّيْتُموها آلهة وهي لا شيء من الإلهية فيها ولا مثقال ذرَّة و {ما أنزل الله بها من سلطانٍ}؛ فإنها لو كانت صحيحةً؛ لأنزل الله بها سلطانًا، فعدم إنزاله له دليلٌ على بطلانها؛ فإنه ما من مطلوب ومقصود ـ وخصوصاً الأمورَ الكبارَ ـ إلا وقد بيَّن الله فيها من الحجج ما يدلُّ عليها ومن السلطان ما لا تخفى معه، {فانتظروا}: ما يقعُ بكم من العقاب الذي وَعَدْتكم به. {إنِّي معكم من المنتظرين}: وفرق بين الانتظارَيْن؛ انتظارِ مَنْ يخشى وقوع العقاب ومَنْ يرجو من الله النصر والثواب.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔