تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
بعض علمائے تفسیر نے قوم عاد کی جسمانی قوت اور ان کے قدو قامت کی لمبائی کے بارے میں عجیب و غریب روایات نقل کی ہیں، مثلاً یہ کہ قوم عاد کا لمبا آدمی سو ہاتھ کا اور سب سے چھوٹے قد کا ساٹھ ہاتھ کا ہوتا تھا اور بعض روایات میں ہے کہ اس کا ایک آدمی اتنے بڑے پتھر کو اٹھا لیتا تھا جسے ہمارے زمانے کے پانچ سو آدمی بھی نہیں اٹھا سکتے وغیرہ۔ مگر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اﷲ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اس کی صورت پر پیدا فرمایا کہ اس کا طول ساٹھ ہاتھ تھا…… پھر اس کے بعد سے اب تک یہ مخلوق گھٹتی رہی ہے۔“ [بخاری، الاستئذان، باب بدء السلام: ۶۲۲۷] اس لیے قوم عاد سے متعلق اس قسم کی کہانیوں پر اعتماد جائز نہیں۔ البتہ یہ بات اپنی جگہ صحیح ہے کہ عاد کے لوگ غیر معمولی جسمانی قوت اور قد و قامت رکھتے تھے، اونچی اونچی عمارتیں بنانے والے اور نہایت سخت گیر تھے، جیسا کہ سورۂ شعراء (۱۲۳ تا ۱۳۴) اور حم السجدہ (۱۵) میں مذکور ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{أوَعَجِبْتُم أن جاءكم ذِكْرٌ من ربِّكم على رجل منكُم لِيُنذِرَكُم}؛ أي: كيف تعجبون من أمر لا يُتَعَجَّبُ منه، وهو أن الله أرسل إليكم رجلاً منكم، تعرفون أمره، يذكِّركم بما فيه مصالحكم، ويحثُّكم على ما فيه النفع لكم، فتعجَّبتم من ذلك تعجُّب المنكرين. {واذْكُروا إذْ جَعَلَكم خلفاء من بعد قوم نوح}؛ أي: واحمدوا ربَّكم، واشكُروه إذ مَكَّنَ لكم في الأرض، وجعلكم تخلُفون الأمم الهالكة الذين كذَّبوا الرسل، فأهلكهم الله، وأبقاكم لينظر كيف تعملون، واحذروا أن تقيموا على التكذيب كما أقاموا، فيصيبكم ما أصابهم، {و} اذكروا نعمة الله عليكم التي خصَّكم بها، وهي أن {زادكم في الخلق بَسْطَةً}: في القوة وكبر الأجسام وشدَّة البطش، {فاذكُروا آلاءَ اللهِ}؛ أي: نعمه الواسعة وأياديه المتكررة، {لعلَّكُم}: إذا ذَكَرْتُموها بشكرها وأداء حقِّها، {تفلحونَ}؛ أي: تفوزون بالمطلوب، وتنجون من المرهوب.