تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 4

وَ کَمۡ مِّنۡ قَرۡیَۃٍ اَہۡلَکۡنٰہَا فَجَآءَہَا بَاۡسُنَا بَیَاتًا اَوۡ ہُمۡ قَآئِلُوۡنَ ﴿۴﴾
اور کتنی ہی بستیاں ہیں جنھیں ہم نے ہلاک کر دیا، تو ان پر ہمارا عذاب راتوں رات آیا، یا جب کہ وہ دوپہر کو آرام کرنے والے تھے۔ En
اور کتنی ہی بستیاں ہیں کہ ہم نے تباہ کر ڈالیں جن پر ہمارا عذاب (یا تو رات کو) آتا تھا جبکہ وہ سوتے تھے یا (دن کو) جب وہ قیلولہ (یعنی دوپہر کو آرام) کرتے تھے
En
اور بہت بستیوں کو ہم نے تباه کردیا اور ان پر ہمارا عذاب رات کے وقت پہنچا یا ایسی حالت میں کہ وه دوپہر کے وقت آرام میں تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو ان سزاؤں سے ڈرایا ہے جو اس نے ان قوموں کو دیں جنھوں نے اپنے رسولوں اور ان کی دعوت کو جھٹلایا۔ پس وہ ان کی مشابہت اختیار نہ کریں، چنانچہ فرمایا:﴿ وَؔكَمْ مِّنْ قَ٘رْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا فَجَآءَهَا بَ٘اْسُنَا اور کتنی ہی بستیاں ہم نے ہلاک کر دیں، پس آیا ان کے پاس ہمارا عذاب یعنی ہمارا سخت عذاب ان پر نازل ہوا ﴿ بَیَاتًا اَوْ هُمْ قَآىِٕلُوْنَ راتوں رات یا دوپہر کو سوتے ہوئے یعنی ہمارا عذاب ان کی غفلت کی حالت میں نازل ہوا۔ جبکہ وہ خواب غفلت کے مزے لے رہے تھے اور ہلاکت کا ان کے دل میں کبھی خیال بھی نہ آیا ہوگا۔ جب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا تو وہ اپنے آپ کو عذاب سے نہ بچا سکے اور ان کے وہ معبود بھی ان کے کوئی کام نہ آسکے جن سے انھیں بڑی امیدیں تھیں اور وہ جن گناہوں اور ظلم کا ارتکاب کیا کرتے تھے، انھوں نے ان پر نکیر بھی نہیں کی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم حذرهم عقوباته للأمم الذين كذبوا ما جاءتهم به رسلهم فلا يشابهوهم، فقال: {وكم من قريةٍ أهلكْناها فجاءها بأسُنا}؛ أي: عذابُنا الشديد، {بياتاً أو هم قائلونَ}؛ أي: في حين غفلتهم وعلى غِرَّتهم غافلون، لم يخطر الهلاكُ على قلوبهم، فحين جاءهم العذاب؛ لم يدفعوه عن أنفسهم، ولا أغنت عنهم آلهتهم التي كانوا يرجونهم، ولا أنكروا ما كانوا يفعلونه من الظلم والمعاصي.