تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 40

اِنَّ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا وَ اسۡتَکۡبَرُوۡا عَنۡہَا لَا تُفَتَّحُ لَہُمۡ اَبۡوَابُ السَّمَآءِ وَ لَا یَدۡخُلُوۡنَ الۡجَنَّۃَ حَتّٰی یَلِجَ الۡجَمَلُ فِیۡ سَمِّ الۡخِیَاطِ ؕ وَ کَذٰلِکَ نَجۡزِی الۡمُجۡرِمِیۡنَ ﴿۴۰﴾
بے شک جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور انھیں قبول کرنے سے تکبر کیا، ان کے لیے نہ آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے اور نہ وہ جنت میں داخل ہوں گے، یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہو جائے اور ہم مجرموں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔ En
جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے سرتابی کی۔ ان کے لیے نہ آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے اور نہ وہ بہشت میں داخل ہوں گے۔ یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے نہ نکل جائے اور گنہگاروں کو ہم ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں
En
جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے تکبر کیا ان کے لئے آسمان کے دروازے نہ کھولے جائیں گے اور وه لوگ کبھی جنت میں نہ جائیں گے جب تک کہ اونٹ سوئی کے ناکہ کے اندر سے نہ چلا جائے اور ہم مجرم لوگوں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ اس شخص کے عذاب کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جس نے اس کی آیتوں کو جھٹلایا اور وہ ان پر ایمان نہ لایا۔۔۔۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کی آیات بالکل واضح تھیں۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات سے تکبر کیا اور ان کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا بلکہ انھوں نے ان کو جھٹلایا اور پیٹھ پھیر کر چل دیے۔۔۔۔ یہ ہر بھلائی سے مایوس ہوں گے۔ ان کی روحیں اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے آسمان کی طرف بلند ہوں گی اور اجازت طلب کریں گی مگر ان کو اجازت نہیں ملے گی۔ وہ موت کے بعد آسمان کی طرف اسی طرح بلند نہ ہو سکیں گی جس طرح انھوں نے ایمان باللہ، اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کی محبت کی طرف التفات نہ کیا کیونکہ جزا عمل کی جنس سے ہوتی ہے۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اہل ایمان کی روحیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم کی مطیع ہیں، اس کی آیات کی تصدیق کرنے والی ہیں، ان کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے جائیں گے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف بلند ہوں گی اور عالم علوی میں وہاں پہنچ جائیں گی جہاں اللہ تعالیٰ چاہے گا اور اپنے رب کے قرب اور اس کی رضا کا لطف اٹھائیں گی۔
اہل جہنم کے بارے میں فرمایا: ﴿ وَلَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتّٰى یَـلِجَ الْجَمَلُ وہ جنت میں داخل نہ ہوں گے، یہاں تک کہ داخل ہو اونٹ یعنی معروف اونٹ۔ ﴿ فِیْ سَمِّ الْؔخِیَاطِ سوئی کے ناکے میں یعنی جب تک کہ اونٹ جو کہ سب سے بڑا حیوان ہے، سوئی کے ناکے میں سے جو کہ سب سے تنگ گزرنے کی جگہ ہے، نہ گزر جائے۔ یہ کسی چیز کو محال کے ساتھ معلق کرنے کے باب میں سے ہے، یعنی جس طرح اونٹ کا سوئی کے ناکے میں سے گزرنا محال ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کرنے والوں کا جنت میں داخل ہونا محال ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ اِنَّهٗ مَنْ یُّ٘شْ٘رِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ الْجَنَّةَ وَمَاْوٰىهُ النَّارُ (المائدۃ: 5؍72) جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرے گا اللہ تعالیٰ جنت کو اس پر حرام کر دے گا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔اور یہاں فرمایا: ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُجْرِمِیْنَ اور ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں گناہ گاروں کو یعنی وہ لوگ جن کے جرائم بہت زیادہ اور جن کی سرکشی بے انتہا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى عن عقاب من كذَّب بآياته فلم يؤمنْ بها مع أنها آيات بيناتٌ واستكبر عنها فلم ينقدْ لأحكامها بل كذَّب، وتولى أنهم آيسون من كلِّ خير؛ فلا تفتَّحُ أبوابُ السماء لأرواحهم إذا ماتوا، وصعدت تريد العروجَ إلى الله، فتستأذنُ، فلا يؤذَنُ لها؛ كما لم تصعدْ في الدنيا إلى الإيمان بالله ومعرفته ومحبته، كذلك لا تصعد بعد الموت؛ فإن الجزاء من جنس العمل.

ومفهوم الآية أنَّ أرواح المؤمنين المنقادين لأمرِ الله المصدِّقين بآياته تفتَّح لها أبواب السماء حتى تعرج إلى الله، وتصل إلى حيث أراد الله من العالم العلويِّ، وتبتهجَ بالقرب من ربِّها والحظُوةِ برضوانه. وقوله عن أهل النار: {ولا يدخُلونَ الجنَّة حتى يلجَ الجملُ}: وهو البعير المعروف {في سَمِّ الخِياطِ}؛ أي: حتى يدخُلَ البعير الذي هو من أكبر الحيوانات جسماً في خرق الإبرة الذي هو من أضيق الأشياء. وهذا من باب تعليق الشيء بالمحال؛ أي: فكما أنه محالٌ دخول الجمل في سَمِّ الخياطِ؛ فكذلك المكذِّبون بآيات الله محالٌ دخولهم الجنة؛ قال تعالى: {إنَّه من يُشْرِكْ بالله فقد حرَّم اللهُ عليه الجنةَ ومأواه النارُ}؛ وقال هنا: {وكذلك نَجْزي المجرمينَ}؛ أي: الذين كَثُرَ إجرامُهم، واشتدَّ طغيانُهم.