تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 41

لَہُمۡ مِّنۡ جَہَنَّمَ مِہَادٌ وَّ مِنۡ فَوۡقِہِمۡ غَوَاشٍ ؕ وَ کَذٰلِکَ نَجۡزِی الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۴۱﴾
ان کے لیے جہنم ہی کا بچھونا اور ان کے اوپر کے لحاف ہوں گے اور ہم ظالموں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔ En
ایسے لوگوں کے لیے (نیچے) بچھونا بھی (آتش) جہنم کا ہوگا اور اوپر سے اوڑھنا بھی (اسی کا) اور ظالموں کو ہم ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں
En
ان کے لئے آتش دوزخ کا بچھونا ہوگا اور ان کے اوپر (اسی کا) اوڑھنا ہوگا اور ہم ایسے ﻇالموں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ ان کے لیے جہنم کا بچھونا ہے یعنی ان کے نیچے آگ کے بچھونے ہوں گے ﴿ وَّمِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ ان کے اوپر سے اوڑھنا یعنی عذاب کے بادل ہوں گے جو ان پر چھائے ہوئے ہوں گے ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ اور اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں ظالموں کو اپنے آپ پر ظلم کرنے والوں کو ہم ان کے جرم کے مطابق جزا دیتے ہیں اور تیرا رب اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{لهم من جهنَّمَ مِهادٌ}؛ أي: فراش من تحتهم، {ومن فوقِهِم غَواشٍ}؛ أي: ظلل من العذاب تغشاهم، {وكذلك نَجْزي الظالمين}: لأنفسهم جزاءً وفاقاً، وما ربُّك بظلام للعبيد.