تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {حَتّٰى يَلِجَ الْجَمَلُ فِيْ سَمِّ الْخِيَاطِ:} یہ ایک محاورہ ہے جو ایسے کام کے لیے بولا جاتا ہے جس کا ہونا ممکن ہی نہ ہو۔ نہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہو سکے اور نہ وہ جنت میں داخل ہوں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
چنانچہ حدیث میں ہے کہ { جب بدکاروں کی روحیں قبض کی جاتی ہیں اور فرشتے انہیں لے کر آسمانوں کی طرف چڑھتے ہیں تو فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: یہ خبیث روح کس کی ہے؟ یہ اس کا بد سے بد نام لے کر بتاتے ہیں کہ فلاں کی۔ یہاں تک کہ یہ اسے آسمان کے دروازے تک پہنچاتے ہیں لیکن ان کے لیے دروازہ کھولا نہیں جاتا۔
مسند احمد میں یہ حدیث پوری یوں ہے: { سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک انصاری کے جنازے میں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ جب قبرستان پہنچے تو قبر تیار ہونے میں کچھ دیر تھی۔ سب بیٹھ گئے، ہم اس طرح خاموش اور باادب تھے کہ گویا ہمارے سروں پر پرند ہیں۔ آپ کے ہاتھ میں ایک تنکا تھا جسے آپ زمین پر پھرا رہے تھے۔ تھوڑی دیر میں آپ نے سر اٹھا کر دو بار یا تین بار ہم سے فرمایا کہ عذاب قبر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو۔ پھر فرمایا: مومن جب دنیا کی آخری اور آخرت کی پہلی گھڑی میں ہوتا ہے، اس کے پاس آسمان سے نورانی چہروں والے فرشتے آتے ہیں گویا کہ ان کا منہ آفتاب ہے، ان کے ساتھ جنت کا کفن اور جنت کی خوشبو ہوتی ہے۔ وہ آ کر مرنے والے مومن کے پاس بیٹھ جاتے ہیں جہاں تک اس کی نگاہ کام کرتی ہے، فرشتے ہی فرشتے نظر آتے ہیں پھر ملک الموت آ کر اس کے سرہانے بیٹھ جاتے ہیں اور فرماتے ہیں: اے اطمینان والی روح! اللہ کی مغفرت اور رضا مندی کی طرف چل۔ یہ سنتے ہی وہ روح اس طرح بدن سے نکل جاتی ہے جیسے مشک کے منہ سے پانی کا قطرہ ٹپک جائے۔ اسی وقت ایک پلک جھپکنے کے برابر کی دیر میں وہ جنتی فرشتے اس پاک روح کو اپنے ہاتھوں میں لے لیتے ہیں اور جنتی کفن اور جنتی خوشبو میں رکھ لیتے ہیں، اس میں ایسی عمدہ اور بہترین خوشبو نکلتی ہے کہ کبھی دنیا والوں نے نہ سونگھی ہو۔ اب یہ اسے لے کر آسمانوں کی طرف چڑھتے ہیں۔ فرشتوں کی جو جماعت انہیں ملتی ہے، وہ پوچھتی ہے کہ یہ پاک روح کس کی ہے؟ یہ اس کا بہتر سے بہتر جو نام دنیا میں مشہور تھا، وہ لے کر کہتے ہیں: فلاں کی۔ یہاں تک کہ آسمان دنیا تک پہنچ جاتے ہیں۔ دروازہ کھلوا کر اوپر چڑھ جاتے ہیں۔ یہاں سے اس کے ساتھ اسے دوسرے آسمان تک پہنچانے کے لیے فرشتوں کی اور بڑی جماعت ہو جاتی ہے، اس طرح ساتویں آسمان تک پہنچتے ہیں۔ اللہ عزوجل فرماتا ہے: اس میرے بندے کی کتاب علیین میں رکھ دو اور اسے زمین کی طرف لوٹا دو۔ میں نے انہیں اسی سے پیدا کیا ہے اسی میں لوٹاؤں گا اور اسی سے دوبارہ نکالوں گا۔
اسی روایت کی دوسری سند میں ہے کہ { مومن کی روح کو دیکھ کر آسمان و زمین کے تمام فرشتے دعائے مغفرت و رحمت کرتے ہیں۔ اس کے لئے آسمانوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور ہر دورازے کے فرشتوں کی تمنا ہوتی ہے کہ اللہ کرے، یہ روح ہماری طرف سے آسمان پر چڑھے۔ } اس میں یہ بھی ہے کہ { کافر کی قبر میں اندھا، بہرا، گونگا فرشتہ مقرر ہو جاتا ہے جس کے ہاتھ میں ایک گرز ہوتا ہے کہ اگر اسے کسی بڑے پہاڑ پر مارا جائے تو وہ مٹی ہو جائے۔ پھر اسے جیسا وہ تھا، اللہ تعالیٰ کر دیتا ہے۔ فرشتہ دوبارہ اسے گرز مارتا ہے جس سے یہ چیخنے چلانے لگتا ہے جسے انسان اور جنات کے سوا تمام مخلوق سنتی ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد:295/4-296:صحیح]
ابن جریر میں ہے کہ { نیک صالح شخص سے فرشتے کہتے ہیں: اے مطمئن نفس! جو طیب جسم میں تھا، تو تعریفوں والا بن کر نکل اور جنت کی خوشبو اور نسیم جنت کی طرف چل۔ اس اللہ کے پاس چل جو تجھ پر غصے نہیں ہے۔
امام ابن جریر نے لکھا ہے کہ نہ ان کے اعمال چڑھیں، نہ ان کی روحیں۔ اس سے دونوں قول مل جاتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس کے بعد کے جملے میں جمہور کی قرأت تو «جمل» ہے جس کے معنی نر اونٹ کے ہیں لیکن ایک قرأت میں «جمل» ہے اس کے معنی بڑے پہاڑ کے ہیں۔
مطلب یہ ہر دو صورت ایک ہی ہے کہ نہ اونٹ سوئی کے ناکے سے گزر سکے، نہ پہاڑ۔ اسی طرح کافر جنت میں نہیں جا سکتا۔ ان کا اوڑھنا بچھونا آگ ہے۔ ظالموں کی یہی سزا ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى عن عقاب من كذَّب بآياته فلم يؤمنْ بها مع أنها آيات بيناتٌ واستكبر عنها فلم ينقدْ لأحكامها بل كذَّب، وتولى أنهم آيسون من كلِّ خير؛ فلا تفتَّحُ أبوابُ السماء لأرواحهم إذا ماتوا، وصعدت تريد العروجَ إلى الله، فتستأذنُ، فلا يؤذَنُ لها؛ كما لم تصعدْ في الدنيا إلى الإيمان بالله ومعرفته ومحبته، كذلك لا تصعد بعد الموت؛ فإن الجزاء من جنس العمل.
ومفهوم الآية أنَّ أرواح المؤمنين المنقادين لأمرِ الله المصدِّقين بآياته تفتَّح لها أبواب السماء حتى تعرج إلى الله، وتصل إلى حيث أراد الله من العالم العلويِّ، وتبتهجَ بالقرب من ربِّها والحظُوةِ برضوانه. وقوله عن أهل النار: {ولا يدخُلونَ الجنَّة حتى يلجَ الجملُ}: وهو البعير المعروف {في سَمِّ الخِياطِ}؛ أي: حتى يدخُلَ البعير الذي هو من أكبر الحيوانات جسماً في خرق الإبرة الذي هو من أضيق الأشياء. وهذا من باب تعليق الشيء بالمحال؛ أي: فكما أنه محالٌ دخول الجمل في سَمِّ الخياطِ؛ فكذلك المكذِّبون بآيات الله محالٌ دخولهم الجنة؛ قال تعالى: {إنَّه من يُشْرِكْ بالله فقد حرَّم اللهُ عليه الجنةَ ومأواه النارُ}؛ وقال هنا: {وكذلك نَجْزي المجرمينَ}؛ أي: الذين كَثُرَ إجرامُهم، واشتدَّ طغيانُهم.