تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 36

وَ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا وَ اسۡتَکۡبَرُوۡا عَنۡہَاۤ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۳۶﴾
اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور انھیں ماننے سے تکبر کیا، وہی آگ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ En
اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے سرتابی کی وہی دوزخی ہیں کہ ہمیشہ اس میں (جلتے) رہیں گے
En
اور جو لوگ ہمارے ان احکام کو جھٹلائیں اور ان سے تکبر کریں وه لوگ دوزخ والے ہوں گے وه اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَالَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَاسْتَؔكْبَرُوْا عَنْهَاۤ اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے تکبر کیا یعنی ان آیات پر ان کے دل ایمان لائے نہ ان کے جوارح نے ان آیات کے احکام کی اطاعت کی۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰؔبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰؔلِدُوْنَ وہی دوزخی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ یعنی جس طرح انھوں نے ہماری آیات کی اہانت کی اور ان کی تکذیب پر جمے رہے، اسی طرح ان کو ہمیشہ رہنے والے عذاب کے ذریعے سے رسوا کیا جائے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{والذين كذَّبوا بآياتنا واستكبروا عنها}؛ أي: لا آمنت بها قلوبهم ولا انقادت لها جوارحهم، {أولئك أصحابُ النار هم فيها خالدون}: كما استهانوا بآياته، ولازموا التكذيب بها؛ أهينوا بالعذابِ الدائم الملازم.