تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 35

یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ اِمَّا یَاۡتِیَنَّکُمۡ رُسُلٌ مِّنۡکُمۡ یَقُصُّوۡنَ عَلَیۡکُمۡ اٰیٰتِیۡ ۙ فَمَنِ اتَّقٰی وَ اَصۡلَحَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿۳۵﴾
اے آدم کی اولاد! اگر کبھی تمھارے پاس واقعی تم میں سے کچھ رسول آئیں، جو تمھارے سامنے میری آیات بیان کریں تو جو شخص ڈر گیا اور اس نے اصلاح کر لی تو ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غم کھائیں گے۔ En
اے نبی آدم! (ہم تم کو یہ نصیحت ہمیشہ کرتے رہے ہیں کہ) جب ہمارے پیغمبر تمہارے پاس آیا کریں اور ہماری آیتیں تم کو سنایا کریں (تو ان پر ایمان لایا کرو) کہ جو شخص (ان پر ایمان لا کر خدا سے) ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا تو ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے
En
اے اوﻻد آدم! اگر تمہارے پاس پیغمبر آئیں جو تم ہی میں سے ہوں جو میرے احکام تم سے بیان کریں تو جو شخص تقویٰ اختیار کرے اور درستی کرے سو ان لوگوں پر نہ کچھ اندیشہ ہے اور نہ وه غمگین ہوں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو جنت سے نکال دیا تو ان کو رسول بھیج کر اور کتابیں نازل کر کے آزمایا۔ یہ رسول ان کو اللہ تعالیٰ کی آیتیں پڑھ کر سناتے تھے اور اس کے احکام ان پر واضح کرتے تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی فضیلت بیان فرمائی جس نے رسولوں کی دعوت پر لبیک کہا اور اس شخص کا خسارہ بیان کیا جس نے رسولوں کی دعوت کا جواب نہ دیا، چنانچہ فرمایا: ﴿فَ٘مَنِ اتَّ٘قٰى پس جس شخص نے تقویٰ اختیار کیا۔ یعنی جو ان امور سے بچ گیا جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے، مثلاً: شرک اور دیگر کبیرہ اور صغیرہ گناہ ﴿ وَاَصْلَ٘حَ اور اس نے (ظاہری اور باطنی اعمال کی) اصلاح کر لی ﴿ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ تو ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا۔ یعنی وہ اس شر کے خوف سے مامون ہوں گے جس سے دیگر لوگ خوفزدہ ہوں گے۔ ﴿ وَلَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ نہ وہ (گزرے ہوئے واقعات پر) غمگین ہوں گے۔ جب ان سے حزن و خوف کی نفی ہوگئی تو انھیں کامل امن اور ابدی فلاح و سعادت حاصل ہوگئی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

لما أخرج الله بني آدم من الجنة؛ ابتلاهم بإرسال الرسل وإنزال الكتب عليهم يقصُّون عليهم آيات الله ويبيِّنون لهم أحكامه. ثم ذكر فضلَ من استجاب لهم وخسارَ من لم يستجبْ لهم، فقال: {فمنِ اتَّقى}: ما حرم الله من الشرك والكبائر والصغائر، {وأصلح}: أعماله الظاهرة والباطنة، {فلا خوفٌ عليهم}: من الشرِّ الذي قد يخافه غيرهم، {ولا هم يحزنونَ}: على ما مضى. وإذا انتفى الخوفُ والحزنُ؛ حصل الأمنُ التامُّ والسعادة والفلاح الأبدي.