پھر اس سے بڑا ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے، یا اس کی آیات کو جھٹلائے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھیں لکھے ہوئے میں سے ان کا حصہ ملے گا، یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے آئیں گے، جو انھیں قبض کریں گے تو کہیں گے کہاں ہیں وہ جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے تھے؟ کہیں گے وہ ہم سے گم ہوگئے اور وہ اپنے آپ پر شہادت دیں گے کہ وہ کافر تھے۔
En
تو اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو خدا پر جھوٹ باندھے یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے۔ ان کو ان کے نصیب کا لکھا ملتا ہی رہے گا یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) جان نکالنے آئیں گے تو کہیں گے کہ جن کو تم خدا کے سوا پکارا کرتے تھے وہ (اب) کہاں ہیں؟ وہ کہیں گے (معلوم نہیں) کہ وہ ہم سے (کہاں) غائب ہوگئے اور اقرار کریں گے کہ بےشک وہ کافر تھے
سو اس شخص سے زیاده ﻇالم کون ہوگا جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے یا اس کی آیتوں کو جھوٹا بتائے، ان لوگوں کے نصیب کا جو کچھ کتاب سے ہے وه ان کو مل جائے گا، یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ان کی جان قبض کرنے آئیں گے تو کہیں گے کہ وه کہاں گئے جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے تھے، وه کہیں گے کہ ہم سے سب غائب ہوگئے اور اپنے کافر ہونے کا اقرار کریں گے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یعنی اس شخص سے بڑھ کر ظالم کوئی نہیں جس نے بہتان طرازی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی طرف شریک اور اس کی ذات و صفات کی طرف نقص کی نسبت کی اور اس کی طرف کسی ایسی بات کو منسوب کیا جو اس نے نہیں کہی۔ ﴿ اَوْكَذَّبَبِاٰیٰتِهٖ ﴾”یا اس کی آیات کو جھٹلایا۔“ یعنی جس نے حق مبین کو بیان کرنے والی واضح آیات کو جھٹلایا، جو راہ راست کی طرف راہ نمائی کرتی ہیں پس یہ لوگ اگرچہ اس دنیا سے فائدہ اٹھا رہے ہیں تاہم انھیں وہ عذاب ضرور مل کر رہے گا جو لوح محفوظ میں ان کے لیے لکھ دیا گیا ہے۔ کوئی چیز ان کے کسی کام نہیں آئے گی۔ وہ اس دنیا سے تھوڑی سی مدت کے لیے فائدہ اٹھائیں گے اور ابد الآباد تک عذاب بھگتیں گے۔ ﴿حَتّٰۤىاِذَاجَآءَتْهُمْرُسُلُنَایَتَوَفَّوْنَهُمْ ﴾”یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) جان نکالنے آئیں گے۔“ یعنی جب ان کے پاس وہ فرشتے آجائیں گے جو ان کی مدت مقررہ پوری کرنے اور روح قبض کرنے پر مامور ہیں ﴿قَالُوْۤا ﴾ یعنی اس حالت میں فرشتے ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے کہیں گے ﴿ اَیْنَمَاكُنْتُمْتَدْعُوْنَمِنْدُوْنِاللّٰهِ ﴾” وہ (بت اور تمھارے خود ساختہ معبود) کہاں ہیں جن کو تم اللہ کے سوا پکارا کرتے تھے؟“ اب ضرورت کا وقت آ گیا ہے اگر وہ تمھیں کوئی فائدہ دے سکتے ہیں یا کسی تکلیف کو دور کر سکتے ہیں؟ (تو ان کو بلاؤ)
﴿ قَالُوْاضَلُّوْاعَنَّا ﴾”وہ کہیں گے، وہ ہم سے گم ہو گئے“ یعنی وہ مضمحل اور باطل ہوگئے اور وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کے مقابلے میں ہمارے کسی کام کے نہیں۔ ﴿ وَشَهِدُوْاعَلٰۤىاَنْفُسِهِمْاَنَّهُمْكَانُوْاكٰفِرِیْنَ ﴾”اور وہ اپنے آپ پر گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے“ یعنی وہ دائمی طور پر رسوا کن عذاب کے مستحق ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: لا أحد أظلم {ممَّنِ افترى على الله كذباً}: بنسبة الشريك له والنقص له والتقوُّل عليه ما لم يقل، {أو كذَّب بآياته}: الواضحة المبينة للحقِّ المبين الهادية إلى الصراط المستقيم؛ فهؤلاء وإن تمتعوا بالدنيا ونالهم نصيبهم مما كان مكتوباً لهم في اللوح المحفوظ؛ فليس ذلك بمغنٍ عنهم شيئاً، يتمتَّعون قليلاً ثم يعذَّبون طويلاً. {حتى إذا جاءتهم رسُلُنا يتوفَّوْنهم}؛ أي: الملائكة الموكلون بقبض أرواحهم واستيفاء آجالهم، {قالوا}: لهم في تلك الحالة توبيخاً وعتاباً: {أين ما كنتم تَدْعون من دونِ الله}: من الأصنام والأوثان؛ فقد جاء وقت الحاجة إن كان فيها منفعةٌ لكم أو دفع مضرة، {قالوا ضَلُّوا عنا}؛ أي: اضمحلوا وبطلوا، وليسوا مغنين عنَّا من عذاب الله من شيء، {وشهدوا على أنفسِهم أنهم كانوا كافرين}: مستحقين للعذاب المهين الدائم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔