تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 29

قُلۡ اَمَرَ رَبِّیۡ بِالۡقِسۡطِ ۟ وَ اَقِیۡمُوۡا وُجُوۡہَکُمۡ عِنۡدَ کُلِّ مَسۡجِدٍ وَّ ادۡعُوۡہُ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ ۬ؕ کَمَا بَدَاَکُمۡ تَعُوۡدُوۡنَ ﴿ؕ۲۹﴾
کہہ دے میرے رب نے انصاف کا حکم دیا ہے اور اپنے رخ ہر نماز کے وقت سیدھے رکھو اور اس کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے اس کو پکارو۔ جس طرح اس نے تمھاری ابتدا کی، اسی طرح تم دوبارہ پیدا ہو گے۔ En
کہہ دو کہ میرے پروردگار نے تو انصاف کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور یہ کہ ہر نماز کے وقت سیدھا (قبلے کی طرف) رخ کیا کرو اور خاص اسی کی عبادت کرو اور اسی کو پکارو۔ اس نے جس طرح تم کو ابتداء میں پیدا کیا تھا اسی طرح تم پھر پیدا ہوگے
En
آپ کہہ دیجیئے کہ میرے رب نے حکم دیا ہے انصاف کا اور یہ کہ تم ہر سجده کے وقت اپنا رخ سیدھا رکھا کرو اور اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طور پر کرو کہ اس عبادت کو خالص اللہ ہی کے واسطے رکھو۔ تم کو اللہ نے جس طرح شروع میں پیدا کیا تھا اسی طرح تم دوباره پیدا ہوگے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تعالیٰ نے اس چیز کا ذکر فرمایا جس کا وہ حکم دیتا ہے ﴿ قُ٘لْ اَمَرَ رَبِّیْ بِالْقِسْطِ کہہ دیجیے کہ میرے رب نے تو انصاف کرنے کا حکم دیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے عبادات و معاملات میں ظلم و جور کا حکم نہیں دیا بلکہ عدل و انصاف کا حکم دیا ہے ﴿وَاَ٘قِیْمُوْا وُجُوْهَكُمْ عِنْدَ كُ٘لِّ مَسْجِدٍ اور سیدھے کرو اپنے منہ ہر نماز کے وقت یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ رکھو، عبادات کی تکمیل کی کوشش کرو۔ خاص طور پر نماز کو ظاہر اور باطن میں کامل طور پر قائم کرو اور اسے تمام نقائص اور مفاسد سے پاک رکھو۔ ﴿ وَّادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ اور پکارو اس کو خالص اس کے فرماں بردار ہو کر یعنی صرف اسی کی رضا جوئی کا مقصد رکھو، وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔ یہ دعا، دعائے مسئلہ اور دعائے عبادت دونوں کو شامل ہے، یعنی تمھاری دعا کی تمام اغراض میں اللہ تعالیٰ کی عبودیت اور اس کی رضا کے سوا کوئی اور مقصد و ارادہ نہیں ہونا چاہیے۔ ﴿كَمَا بَدَاَكُمْ جیسے پہلی مرتبہ تمھاری ابتدا کی ﴿ تَعُوْدُوْنَ تم پھر پیدا ہوگے۔ یعنی اس طرح مرنے کے بعد تمھیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ وہ ہستی جو تمھاری تخلیق کی ابتدا پر قادر ہے وہ اس تخلیق کا اعادہ کرنے کی بھی قدرت رکھتی ہے۔ بلکہ اس کا اعادہ زیادہ آسان ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم ذكر ما يأمر به، فقال: {قل أمَرَ ربِّي بالقِسْط}؛ أي: بالعدل في العبادات والمعاملات، لا بالظلم والجور، {وأقيموا وجوهَكم عند كلِّ مسجدٍ}؛ أي: توجَّهوا لله، واجتهدوا في تكميل العبادات، خصوصاً الصلاة، أقيموها ظاهراً وباطناً، ونقُّوها من كل مُنَقِّص ومفسد. {وادعوه مخلصين له الدينَ}؛ أي: قاصدين بذلك وجهه وحدَه لا شريك له، والدعاء يشمل دعاء المسألة ودعاء العبادة؛ أي: لا تريدُون ولا تقصدون من الأغراض في دعائكم سوى عبودية الله ورضاه، {كما بدأكم}: أول مرة {تعودونَ}: للبعث؛ فالقادر على بدء خلقكم قادرٌ على إعادته، بل الإعادةُ أهون من البداءَة.