ایک گروہ کو اس نے ہدایت دی اور ایک گروہ، ان پر گمراہی ثابت ہو چکی، بے شک انھوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیطانوں کو دوست بنا لیا اور سمجھتے ہیں کہ یقینا وہ ہدایت پانے والے ہیں۔
En
ایک فریق کو تو اس نے ہدایت دی اور ایک فریق پر گمراہی ثابت ہوچکی۔ ان لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر شیطانوں کو رفیق بنا لیا اور سمجھتے (یہ) ہیں کہ ہدایت یاب ہیں
بعض لوگوں کو اللہ نے ہدایت دی ہے اور بعض پر گمراہی ﺛابت ہوگئی ہے۔ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر شیطانوں کو دوست بنالیا ہے اور خیال رکھتے ہیں کہ وه راست پر ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿فَرِیْقًا ﴾”ایک فریق کو“ یعنی تم میں سے ایک فریق کو ﴿ هَدٰؔى ﴾”اس نے ہدایت دی۔“ یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے ہدایت کی توفیق سے نوازا، اس کے اسباب مہیا کیے اور اس کے موانع کو اس سے دور کیا ﴿ وَفَرِیْقًاحَقَّعَلَیْهِمُالضَّلٰ٘لَةُ﴾”اور ایک فریق، ثابت ہو گئی اس پر گمراہی“ چونکہ انھوں نے گمراہی کے اسباب اختیار کیے اور ہلاکت کے اسباب پر عمل پیرا ہوئے اس لیے اللہ تعالیٰ نے گمراہی کو ان پر واجب کر دیا۔
﴿ اِنَّهُمُاتَّؔخَذُواالشَّیٰطِیْنَاَوْلِیَآءَؔمِنْدُوْنِاللّٰهِ ﴾”انھوں نے شیطانوں کو رفیق بنایا، اللہ کو چھوڑ کر“ اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا دوست بناتا ہے وہ واضح خسارے میں مبتلا ہو جاتا ہے اور چونکہ وہ اللہ رحمن کی ولایت اور دوستی سے نکل گئے اور انھوں نے شیطان کی دوستی کو پسند کر لیا، اس لیے انھیں اللہ تعالیٰ کی مدد و توفیق سے محرومی میں سے وافر حصہ نصیب ہوا اور چونکہ انھوں نے اپنے آپ پر بھروسہ کیا اس لیے وہ بہت بڑے خسارے میں پڑ گئے۔ ﴿ وَیَحْسَبُوْنَاَنَّهُمْمُّهْتَدُوْنَ ﴾”اور وہ گمان کرتے ہیں کہ وہ ہدایت پر ہیں “ یعنی ان کے ہاں حقائق بدل گئے اور انھوں نے باطل کو حق اور حق کو باطل سمجھ لیا۔ ان آیات کریمہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ اوامر و نواہی اللہ تعالیٰ کی حکمت و مصلحت کے تابع ہیں۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ اللہ تعالیٰ کسی ایسے امر کا حکم دے جسے عقل فحش سمجھتی ہو اور اسے ناپسند کرتی ہو اور اللہ تعالیٰ عدل و انصاف کے سوا کسی چیز کا حکم نہیں دیتا۔
اس میں اس امر کی بھی دلیل ہے کہ ہدایت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اس کا دارومدار اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم پر ہے اور گمراہی یہ ہے کہ جب بندہ اپنے ظلم و جہالت سے شیطان کو اپنا دوست اور اس کو اپنی گمراہی کا سبب بنا لے تو اللہ اس سے علیحدہ ہو جاتا ہے اور اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہے اور جو کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ راہ ہدایت پر ہے درآں حالیکہ وہ بھٹک چکا ہو تو اس کے لیے کوئی عذر نہیں کیونکہ وہ ہدایت حاصل کر سکتا تھا لیکن اس نے اپنے گمان کو ہی سب کچھ سمجھا اور ہدایت کی منزل کو پہنچانے والے راستے کو ترک کر کے اپنے آپ پر ظلم کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فريقاً}: منكم، {هَدَى}: اللهُ؛ أي: وفَّقهم للهداية ويسَّر لهم أسبابها وصرف عنهم موانعها، {وفريقاً حقَّ عليهم الضَّلالة}؛ أي: وجبت عليهم الضَّلالة بما تسبَّبوا لأنفسهم وعملوا بأسباب الغواية. فإنَّهم {اتَّخذوا الشياطينَ أولياء من دون اللهِ}؛ ومن يتَّخذ الشيطان وليًّا من دون الله؛ فقد خسر خسراناً مُبِيناً؛ فحين انسلخوا من ولاية الرحمن واستحبوا ولاية الشيطان؛ حصل لهم النصيبُ الوافر من الخذلان، ووُكِلوا إلى أنفسهم فخسروا أشد الخسران. وهم يحسبونَ {أنَّهم مهتدونَ}: لأنهم انقلبت عليهم الحقائقُ، فظنُّوا الباطل حقًّا والحقَّ باطلاً.
وفي هذه الآيات دليلٌ على أن الأوامر والنواهي تابعة للحكمة والمصلحة؛ حيث ذكر تعالى أنه لا يُتَصَوَّر أن يأمر بما تستفحشه وتنكره العقول، وأنه لا يأمر إلا بالعدل والإخلاص.
وفيه دليلٌ على أن الهداية بفضل الله ومَنِّه، وأن الضلالة بخذلانه للعبد إذ تولى ـ بجهله وظلمه ـ الشيطانَ، وتسبَّب لنفسه بالضلال، وأن من حسب أنه مهتدٍ وهو ضالٌّ فإنه لا عذر له؛ لأنه متمكِّن من الهدى، وإنما أتاه حسبانه من ظلمه بترك الطريق الموصل إلى الهدى.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔