کہہ دے میں اپنی جان کے لیے نہ کسی نفع کا مالک ہوں اور نہ کسی نقصان کا، مگر جو اللہ چاہے اور اگر میں غیب جانتا ہوتا تو ضرور بھلائیوں میں سے بہت زیادہ حاصل کر لیتا اور مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچتی، میں نہیں ہوں مگر ایک ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں۔
En
کہہ دو کہ میں اپنے فائدے اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا مگر جو الله چاہے اور اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو بہت سے فائدے جمع کرلیتا اور مجھ کو کوئی تکلیف نہ پہنچتی۔ میں تو مومنوں کو ڈر اور خوشخبری سنانے والا ہوں
آپ فرما دیجئے کہ میں خود اپنی ذات خاص کے لیے کسی نفع کا اختیار نہیں رکھتا اور نہ کسی ضرر کا، مگر اتنا ہی کہ جتنا اللہ نے چاہا ہو اور اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو میں بہت سے منافع حاصل کر لیتا اور کوئی نقصان مجھ کو نہ پہنچتا میں تو محض ڈرانے واﻻ اور بشارت دینے واﻻ ہوں ان لوگوں کو جو ایمان رکھتے ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿قُ٘لْلَّاۤاَمْلِكُلِنَفْ٘سِیْنَفْعًاوَّلَاضَرًّا ﴾”کہہ دیجیے! میں تو اپنے نفس کے لیے بھی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتا“ اس لیے کہ میں تو محتاج بندہ ہوں اور کسی دوسری ہستی کے دست تدبیر کے تحت ہوں۔ مجھے اگر کوئی بھلائی عطا ہوتی ہے تو صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور مجھ سے شر بھی کوئی دور کرتا ہے تو صرف وہی اور میرے پاس کوئی علم بھی نہیں، سوائے اس کے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کیا ہے ﴿وَلَوْكُنْتُاَعْلَمُالْغَیْبَلَاسْتَكْثَ٘رْتُمِنَالْخَیْرِ١ۛۖۚوَمَامَسَّنِیَالسُّوْٓءُ﴾”اگر میں غیب جان لیا کرتا تو بہت بھلائیاں حاصل کر لیتا اور مجھے برائی کبھی نہ پہنچتی“ یعنی میں وہ اسباب مہیا کر لیتا جن کے بارے میں مجھے علم ہوتا کہ وہ مصالح اور منافع پر منتج ہوں گے اور میں ہر تکلیف دہ اور ناپسندیدہ چیز سے بچ جاتا کیونکہ مجھے ان کے وقوع کا بھی پہلے ہی سے علم ہوتا اور مجھے یہ بھی معلوم ہوتا کہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔ مگر مجھے غیب کا علم نہ ہونے کی وجہ سے کبھی کبھی تکلیف بھی پہنچتی ہے اور اسی وجہ سے کبھی کبھی مجھ سے دنیاوی فوائد اور مصالح بھی فوت ہو جاتے ہیں۔ اور یہ اس بات کی اولین دلیل ہے کہ میں غیب کا علم نہیں جانتا۔ ﴿ اِنْاَنَااِلَّانَذِیْرٌ ﴾”میں تو صرف ڈر سنانے والا ہوں۔“ یعنی میں تو صرف دنیاوی، دینی اور اخروی سزاؤں سے ڈراتا ہوں اور ان اعمال سے آگاہ کرتا ہوں جو ان سزاؤں کا باعث بنتے ہیں اور سزاؤں سے بچنے کی تلقین کرتا ہوں۔ ﴿وَّبَشِیْرٌ ﴾”اور خوشخبری سنانے والا ہوں۔“ اور ثواب عاجل و آجل کی منزل تک پہنچانے والے اعمال کو واضح کر کے اور ان کی ترغیب دے کر اس ثواب کی خوشخبری سناتا ہوں۔ مگر ہر شخص اس تبشیر و انذار کو قبول نہیں کرتا بلکہ صرف اہل ایمان ہی اس بشارت و انذار کو قبول کر کے اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
یہ آیات کریمہ اس شخص کی جہالت کو بیان کرتی ہیں جو نبئ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو مقصود بناتا ہے اور حصول منفعت اور دفع مضرت کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارتا ہے.... کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار میں کچھ بھی نہیں، جسے اللہ تعالیٰ نفع پہنچانا نہ چاہے آپ اسے کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے اور اللہ تعالیٰ جس سے ضرر دور نہ کرے آپ اس سے ضرر کو دور نہیں کر سکتے۔ اسی طرح آپ کے پاس علم بھی صرف وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا ہے۔
صرف تبشیر و انذار اور ان پر عمل ہی فائدہ دیتا ہے جن کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا۔ یہ تبشیر اور انذار ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے فائدہ ہے جو ماں باپ، دوست احباب اور بھائیوں کی طرف سے فائدے پر فوقیت رکھتا ہے، یہی وہ نفع ہے جس کے ذریعے سے بندوں کو ہر بھلائی پر آمادہ کیا جاتا ہے اور ہر برائی سے ان کے لیے حفاظت ہے اور اس میں ان کے لیے حد درجہ بیان اور توضیح ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قل لا أملِكُ لنفسي نفعاً ولا ضرًّا}: فإني فقير مدبَّر، لا يأتيني خيرٌ إلا من الله، ولا يَدْفَعُ عني الشرَّ إلا هو، وليس لي من العلم إلا ما علمني الله تعالى. {ولو كنتُ أعلم الغيبَ لاستكثرتُ من الخير وما مسَّني السوءُ}؛ أي: لفعلت الأسباب التي أعلم أنها تنتج لي المصالح والمنافع، ولحذرتُ من كلِّ ما يفضي إلى سوءٍ ومكروهٍ؛ لعلمي بالأشياء قبل كونها، وعلمي بما تفضي إليه، ولكني لعدم علمي قد ينالني ما ينالني من السوء وقد يفوتني ما يفوتني من مصالح الدُّنيا ومنافعها؛ فهذا أدلُّ دليل على أني لا علم لي بالغيب. {إن أنا إلا نذيرٌ}: أنذر العقوبات الدينيَّة والدنيويَّة والأخرويَّة، وأبيِّن الأعمال المفضية إلى ذلك وأحذِّر منها. وبشير بالثواب العاجل والآجل، ببيان الأعمال الموصلة إليه والترغيب فيها، ولكن ليس كلُّ أحدٍ يقبل هذه البشارة والنذارة، وإنما ينتفع بذلك ويقبله المؤمنون.
وهذه الآيات الكريمات مبيِّنة جهل من يقصد النبي - صلى الله عليه وسلم - ويدعوه لحصول نفع أو دفع ضرٍّ؛ فإنَّه ليس بيده شيء من الأمر، ولا ينفع مَنْ لم ينفعْه الله، ولا يدفعُ الضرَّ عمَّن لم يدفعْه الله عنه، ولا له من العلم إلاَّ ما علَّمه الله [تعالى]، وإنما ينفع مَنْ قَبِلَ ما أرسل به من البشارة والنذارة وعمل بذلك؛ فهذا نفعه عليه السلام الذي فاق نفع الآباء والأمهات والأخلاَّء والإخوان، بما حثَّ العباد على كلِّ خير، وحذَّرهم عن كلِّ شرٍّ، وبينه لهم غاية البيان والإيضاح.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔