تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 189

ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّ جَعَلَ مِنۡہَا زَوۡجَہَا لِیَسۡکُنَ اِلَیۡہَا ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰہَا حَمَلَتۡ حَمۡلًا خَفِیۡفًا فَمَرَّتۡ بِہٖ ۚ فَلَمَّاۤ اَثۡقَلَتۡ دَّعَوَا اللّٰہَ رَبَّہُمَا لَئِنۡ اٰتَیۡتَنَا صَالِحًا لَّنَکُوۡنَنَّ مِنَ الشّٰکِرِیۡنَ ﴿۱۸۹﴾
وہی ہے جس نے تمھیں ایک جان سے پیدا کیا اور اس سے اس کا جوڑا بنایا، تاکہ وہ اس کی طرف (جاکر) سکون حاصل کرے، پھر جب اس نے اس (عورت) کو ڈھانکا تو اس نے ہلکا سا حمل اٹھا لیا،پس اسے لے کر چلتی پھرتی رہی، پھر جب وہ بھاری ہوگئی تو دونوں نے اللہ سے دعا کی، جو ان کا رب ہے کہ بے شک اگر تو نے ہمیں تندرست بچہ عطا کیا تو ہم ضرور ہی شکر کرنے والوں سے ہوں گے۔ En
وہ خدا ہی تو ہے جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا اور اس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس سے راحت حاصل کرے۔ سو جب وہ اس کے پاس جاتا ہے تو اسے ہلکا سا حمل رہ جاتا ہے اور وہ اس کے ساتھ چلتی پھرتی ہے۔ پھر جب کچھ بوجھ معلوم کرتی یعنی بچہ پیٹ میں بڑا ہوتا ہے تو دونوں میاں بیوی اپنے پروردگار خدائے عزوجل سے التجا کرتے ہیں کہ اگر تو ہمیں صحیح وسالم (بچہ) دے گا تو ہم تیرے شکر گذار ہوں گے
En
وه اللہ تعالیٰ ایسا ہے جس نے تم کو ایک تن واحد سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ وه اس اپنے جوڑے سے انس حاصل کرے پھر جب میاں نے بیوی سے قربت کی تو اس کو حمل ره گیا ہلکا سا۔ سو وه اس کو لئے ہوئے چلتی پھرتی رہی، پھر جب وه بوجھل ہوگئی تو دونوں میاں بیوی اللہ سے جو ان کا مالک ہے دعا کرنے لگے کہ اگر تو نے ہم کو صحیح سالم اوﻻد دے دی تو ہم خوب شکر گزاری کریں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وہی ہے جس نے تمھیں پیدا کیا۔اے مردو اور عورتو! جو روئے زمین پر پھیلے ہوئے ہو، تمھاری کثرت تعداد اور تمھارے متفرق ہونے کے باوصف، ﴿ مِّنْ نَّ٘فْ٘سٍ وَّاحِدَةٍ ایک جان سے۔ اور وہ ہیں ابوالبشر آدم علیہ السلام۔ ﴿ وَّجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا اور اسی سے بنایا اس کا جوڑا یعنی آدم علیہ السلام سے ان کی بیوی حوا علیہا السلام کو تخلیق کیا۔ ﴿ لِیَسْكُنَ اِلَیْهَا تاکہ اس کے پاس آرام پکڑے چونکہ حواء کو آدم سے پیدا کیا گیا ہے اس لیے ان دونوں کے مابین ایسی مناسبت اور موافقت موجود ہے جو تقاضا کرتی ہے کہ وہ ایک دوسرے سے سکون حاصل کریں اور شہوت کے تعلق سے ایک دوسرے کی اطاعت کریں۔ ﴿فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا سو جب وہ اس کے پاس جاتا ہے۔ یعنی جب آدمی نے اپنی بیوی سے مجامعت کی تو باری تعالیٰ نے یہ بات مقدر کردی کہ اس شہوت اور جماع سے ان کی نسل وجود میں آئے اور اس وقت ﴿ حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِیْفًا حمل رہا ہلکا ساحمل یہ کیفیت حمل کے ابتدائی ایام میں ہوتی ہے عورت اس کو محسوس نہیں کر پاتی اور نہ اس وقت یہ حمل بوجھل ہوتا ہے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ پس جب یہ حمل اسی طرح موجود رہا ﴿ اَثْقَلَتْ بوجھل ہوگئی یعنی اس حمل کی وجہ سے، جبکہ وہ حمل بڑا ہو جاتا ہے تو اس وقت والدین کے دل میں بچے کے لیے شفقت، اس کے زندہ صحیح و سالم اور ہر آفت سے محفوظ پیدا ہونے کی آرزو پیدا ہوتی ہے۔ بنابریں ﴿ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَىِٕنْ اٰتَیْتَنَا دونوں نے دعا کی اللہ اپنے رب سے، اگر بخشا تو نے ہم کو یعنی بچہ ﴿صَالِحًا صحیح و سالم یعنی صحیح الخلقت، پورا اور ہر نقص سے محفوظ ﴿ لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ تو ہم شکر گزار بندوں میں سے ہوں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: {هو الذي خلقكم}: أيها الرجال والنساء المنتشرون في الأرض على كثرتكم وتفرُّقكم، {من نفس واحدةٍ}: وهو آدمُ أبو البشر - صلى الله عليه وسلم -، {وجعل منها زوجَها}؛ أي: خلق من آدم زوجته حواء. لأجل أن يسكن إليها، لأنها إذا كانت منه؛ حصل بينهما من المناسبة والموافقة ما يقتضي سكونَ أحدهما إلى الآخر، فانقاد كلٌّ منهما إلى صاحبه بزمام الشهوة. {فلما تغشَّاها}؛ أي: تجلَّلها مجامعاً لها؛ قدَّر الباري أن يوجد من تلك الشهوة ـ وذلك الجماع ـ النسل، فحملتْ {حملاً خفيفاً}، وذلك في ابتداء الحمل لا تحس به الأنثى ولا يثقلها. {فلما} استمرَّت [به] و {أثقلت} به حين كبر في بطنها؛ فحينئذٍ صار في قلوبهما الشفقة على الولد وعلى خروجه حيًّا صحيحاً سالماً لا آفة فيه، فدَعَوَا {الله ربَّهما لئن آتَيْتنَا}: ولداً: {صالحاً}؛ أي: صالح الخلقة تامّها لا نقص فيه، {لنكوننَّ من الشاكرين}.