تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ لَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَيْبَ:} یعنی نہ میں غیب دان ہی ہوں، اگر ایسا ہوتا تو کتنے ہی فائدے ہیں جنھیں میں پیشگی سمیٹ لیتا اور کتنے ہی نقصانات ہیں جن سے قبل از وقت آگاہ ہونے کی بنا پر میں بچ جاتا۔ یہاں لفظ {” لَوْ “} (اگر) سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باوجود افضل المرسلین ہونے کے علم غیب نہیں رکھتے تھے، کیونکہ یہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کی صفت ہے۔ دیکھیے سورۂ نمل (۶۵) اس کے باوجود بعض نادان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عالم الغیب باور کرواتے ہیں، حالانکہ بعض جنگوں میں آپ کا چہرہ زخمی ہوا، دانت مبارک بھی شہید ہوا، چہرے میں خود کی کڑیاں چبھ گئیں، ہونٹ پھٹ گیا، گھوڑے سے گر کر زخمی ہوئے تو کتنے دن صاحبِ فراش رہے۔ عائشہ رضی اللہ عنھا پر بہتان لگا تو پورا ایک مہینا آپ پریشان رہے، ایک یہودی عورت نے کھانے میں زہر ملا دیا، جسے کھانے سے آپ کے بعض صحابہ شہید بھی ہو گئے، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس زہر کا اثر آخر تک محسوس کرتے رہے۔ یہ سب واقعات شاہد ہیں کہ ”اگر میں غیب جانتا ہوتا تو مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچتی۔“ اس مضمون کو تفصیل سے پڑھنے کے لیے تقویۃ الایمان شاہ اسماعیل رحمہ اللہ اور تلاش حق از ارشاد اللہ مان صاحب کا مطالعہ فرمائیں۔
➌ { اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ وَّ بَشِيْرٌ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ:} اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء اور اولیاء کو جو اللہ تعالیٰ نے سب لوگوں سے بڑا بنایا ہے، سو ان میں بڑائی یہی ہوتی ہے کہ وہ اللہ کی راہ بتاتے ہیں اور اس بات میں کچھ ان کی بڑائی نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو عالم میں تصرف کی قدرت دے دی ہو کہ موت و حیات یا نفع و نقصان ان کے اختیار میں ہو، یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غیب دانی دے دی ہو کہ جس کے احوال جب چاہیں معلوم کر لیں۔ اس آیت سے شرک کی جڑ کٹ گئی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو تمام عالم کے سردار ہیں، اپنی جان کے نفع و نقصان کا اختیار نہ ہو، نہ غیب کی بات معلوم ہو تو کسی اور نبی یا ولی یا بزرگ یا فقیر یا جن یا فرشتے کو کیا قدرت ہے کہ کسی کو فائدہ یا نقصان پہنچائے، یا غیب کی کوئی بات بتائے، البتہ وحی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ آپ کو جو بات بتا دیتا وہ آپ کو معلوم ہو جاتی اور آپ لوگوں کو اس کی خبر دے دیتے۔ (وحیدی)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو کوئی کسی کاہن کے پاس جا کر دریافت کرے پھر اسے سچا سمجھے تو اس نے اس سے اظہار برأت کیا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا ہے۔“ [ابو داؤد۔ كتاب الطب باب فى الكاهن۔ باب الكهانة والتطير]
ان احادیث سے از خود یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ غیب کی خبریں بتلانے والا خود کافر ہوتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے سورۃ الجن میں ہے کہ «عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَىٰ غَيْبِهِ أَحَدًا» ۱؎ [72-الجن:26] ’ عالم الغیب اللہ تعالیٰ ہی ہے، وہ اپنے غیب پر کسی کو آگاہ نہیں کرتا۔ ‘
مجھے اگر غیب کی اطلاع ہوتی تو میں اپنے لیے بہت سی بھلائیاں سمیٹ لیتا۔
مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ”اگر مجھے اپنی موت کا علم ہوتا تو نیکیوں میں بھی سبقت لے جاتا۔“ لیکن یہ قول غور طلب ہے کیونکہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال دائمی تھے، جو نیکی ایک بار کرتے، پھر اسے معمول بنا لیتے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:1987]
ساری زندگی اور زندگی کا ہر ایک دن بلکہ ہر ایک گھڑی ایک ہی طرح کی تھی۔ گویا کہ آپ کی نگاہیں ہر وقت اللہ تعالیٰ کی طرف لگتی رہتی تھیں۔
زیادہ سے زیادہ یہ بات یوں ہو سکتی ہے کہ دوسروں کو میں ان کی موت کے وقت سے خبردار کر کے انہیں اعمال نیک کی رغبت دلاتا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس سے زیادہ اچھا قول اس کی تفسیر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ہے کہ ”میں مال جمع کر لیتا، مجھے معلوم ہو جاتا کہ اس چیز کے خریدنے میں نفع ہے، میں اسے خرید لیتا۔
جیسے کہ ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں «فَإِنَّمَا يَسَّرْنَاهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنذِرَ بِهِ قَوْمًا لُّدًّا» ۱؎ [19-مريم:97] ’ ہم نے اسے تیری زبان پر آسان کر دیا ہے کہ تو پرہیزگاروں کو خوشخبری سنا دے اور بروں کو ڈرا دے۔ ‘
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قل لا أملِكُ لنفسي نفعاً ولا ضرًّا}: فإني فقير مدبَّر، لا يأتيني خيرٌ إلا من الله، ولا يَدْفَعُ عني الشرَّ إلا هو، وليس لي من العلم إلا ما علمني الله تعالى. {ولو كنتُ أعلم الغيبَ لاستكثرتُ من الخير وما مسَّني السوءُ}؛ أي: لفعلت الأسباب التي أعلم أنها تنتج لي المصالح والمنافع، ولحذرتُ من كلِّ ما يفضي إلى سوءٍ ومكروهٍ؛ لعلمي بالأشياء قبل كونها، وعلمي بما تفضي إليه، ولكني لعدم علمي قد ينالني ما ينالني من السوء وقد يفوتني ما يفوتني من مصالح الدُّنيا ومنافعها؛ فهذا أدلُّ دليل على أني لا علم لي بالغيب. {إن أنا إلا نذيرٌ}: أنذر العقوبات الدينيَّة والدنيويَّة والأخرويَّة، وأبيِّن الأعمال المفضية إلى ذلك وأحذِّر منها. وبشير بالثواب العاجل والآجل، ببيان الأعمال الموصلة إليه والترغيب فيها، ولكن ليس كلُّ أحدٍ يقبل هذه البشارة والنذارة، وإنما ينتفع بذلك ويقبله المؤمنون.
وهذه الآيات الكريمات مبيِّنة جهل من يقصد النبي - صلى الله عليه وسلم - ويدعوه لحصول نفع أو دفع ضرٍّ؛ فإنَّه ليس بيده شيء من الأمر، ولا ينفع مَنْ لم ينفعْه الله، ولا يدفعُ الضرَّ عمَّن لم يدفعْه الله عنه، ولا له من العلم إلاَّ ما علَّمه الله [تعالى]، وإنما ينفع مَنْ قَبِلَ ما أرسل به من البشارة والنذارة وعمل بذلك؛ فهذا نفعه عليه السلام الذي فاق نفع الآباء والأمهات والأخلاَّء والإخوان، بما حثَّ العباد على كلِّ خير، وحذَّرهم عن كلِّ شرٍّ، وبينه لهم غاية البيان والإيضاح.