اور کیا انھوں نے نگاہ نہیں کی آسمانوں اور زمین کی عظیم الشان سلطنت میں اور کسی بھی ایسی چیز میں جو اللہ نے پیدا کی ہے اور اس بات میں کہ شاید ان کا مقررہ وقت واقعی بہت قریب آ چکا ہو، پھر اس کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے۔
En
کیا انہوں نے آسمان اور زمین کی بادشاہت میں جو چیزیں خدا نے پیدا کی ہیں ان پر نظر نہیں کی اور اس بات پر (خیال نہیں کیا) کہ عجب نہیں ان (کی موت) کا وقت نزدیک پہنچ گیا ہو۔ تو اس کے بعد وہ اور کس بات پر ایمان لائیں گے
اور کیا ان لوگوں نے غور نہیں کیا آسمانوں اور زمین کے عالم میں اور دوسری چیزوں میں جو اللہ نے پیدا کی ہیں اور اس بات میں کہ ممکن ہے کہ ان کی اجل قریب ہی آ پہنچی ہو۔ پھر قرآن کے بعد کون سی بات پر یہ لوگ ایمان ﻻئیں گے؟
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ اَوَلَمْیَنْظُ٘رُوْافِیْمَلَكُوْتِالسَّمٰوٰتِوَالْاَرْضِ ﴾”کیا انھوں نے آسمانوں اور زمین کی سلطنت میں نظر نہیں کی“ کیونکہ جب یہ لوگ زمین و آسمان کی بادشاہی میں غور و فکر کریں گے تو وہ اسے اس کے رب کی وحدانیت اور اس کی صفات کمال پر دلیل پائیں گے۔ ﴿ وَمَاخَلَقَاللّٰهُمِنْشَیْءٍ﴾”اور جو کچھ پیدا کیا اللہ نے ہر چیز سے“ اسی طرح وہ ان تمام چیزوں میں غور و فکر کریں کیونکہ کائنات کے تمام اجزا اللہ تعالیٰ کی ذات، اس کی قدرت، اس کی حکمت اور اس کی بے کراں رحمت، اس کے احسان، اس کی مشیت نافذہ اور اس کی ان عظیم صفات پر سب سے بڑی دلیل ہیں، جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ وہ اکیلا خلق و تدبیر کا مالک ہے وہ اکیلا معبود محمود، وہ اکیلا پاکیزگی کا مستحق اور واحد محبوب ہے۔ فرمایا ﴿ وَّاَنْعَسٰۤىاَنْیَّكُوْنَقَدِاقْتَرَبَاَجَلُهُمْ ﴾”اور شاید کہ قریب آ گیا ہو ان کا وعدہ“ یعنی وہ اپنے خصوصی احوال میں غور کریں اس سے قبل کہ ان کا وقت آن پہنچے اور اچانک ان کی غفلت اور اعراض کی حالت میں موت کا پنجہ ان کو اپنی گرفت میں لے لے اور اس وقت وہ اپنی کوتاہی کا استدراک نہ کر سکیں ﴿ فَبِاَیِّحَدِیْثٍۭؔبَعْدَهٗیُؤْمِنُوْنَ ﴾”تو اس کے بعد وہ اور کسی بات پر ایمان لائیں گے۔“ یعنی اگر یہ اس جلیل القدر کتاب پر ایمان نہیں لائے تو پھر کون سی بات پر ایمان لائیں گے؟ کیا یہ جھوٹ اور گمراہی کی کتابوں پر ایمان لائیں گے؟ کیا وہ ہر بہتان طراز اور دجال کی بات پرایمان لائیں گے؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{أولم ينظروا في مَلَكوت السموات والأرض}: فإنهم إذا نظروا إليها؛ وجدوها أدلة دالة على توحيد ربِّها وعلى ما لَه من صفات الكمال. {و}: كذلك لينظروا إلى جميع {ما خَلَقَ الله من شيء}: فإن جميع أجزاء العالم يدلُّ أعظم دِلالة على علم الله وقدرته وحكمته وسَعَةِ رحمته وإحسانه ونفوذ مشيئته وغير ذلك من صفاته العظيمة الدالَّة على تفرُّده بالخلق والتدبير الموجبة لأن يكون هو المعبودَ المحمودَ المسبَّح الموحَّد المحبوب. وقوله: {وأنْ عسى أن يكونَ قد اقترب أجَلُهم}؛ أي: لينظروا في خصوص حالهم، وينظروا لأنفسهم قبل أن يقتربَ أجلُهم ويفجأهم الموتُ وهم في غفلةٍ معرضونَ؛ فلا يتمكَّنون حينئذٍ من استدراك الفارط. {فبأيِّ حديثٍ بعدَه يؤمنون}؛ أي: إذا لم يؤمنوا بهذا الكتاب الجليل؛ فبأيِّ حديث يؤمنون به؟! أبكتب الكذب والضلال؟! أم بحديث كل مفترٍ دجَّال؟!
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔