تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 184

اَوَ لَمۡ یَتَفَکَّرُوۡا ٜ مَا بِصَاحِبِہِمۡ مِّنۡ جِنَّۃٍ ؕ اِنۡ ہُوَ اِلَّا نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۱۸۴﴾
اور کیا انھوں نے غور نہیں کیا کہ ان کے ساتھی میں جنون کی کون سی چیز ہے؟ وہ تو ایک کھلم کھلا ڈرانے والے کے سوا کچھ نہیں۔ En
کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ ان کے رفیق محمد (ﷺ) کو (کسی طرح کا بھی) جنون نہیں ہے۔ وہ تو ظاہر ظہور ڈر سنانے والے ہیں
En
کیا ان لوگوں نے اس بات پر غور نہ کیا کہ ان کے ساتھی کو ذرا بھی جنون نہیں وه تو صرف ایک صاف صاف ڈرانے والے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اَوَلَمْ یَتَفَؔكَّـرُوْا١ٚ مَا بِصَاحِبِهِمْ کیا انھوں نے غور نہیں کیا کہ ان کے ساتھی کو یعنی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو ﴿ مِّنْ جِنَّةٍ کوئی جنون نہیں یعنی کیا انھوں نے غور و فکر نہیں کیا کہ ان کے ساتھی کا حال، جس کو یہ اچھی طرح جانتے ہیں، چھپا ہوا نہیں ہے۔ کیا وہ پاگل ہے؟ پس اس کے اخلاق و اطوار، اس کی سیرت، طریقے اور اس کے اوصاف کو دیکھیں اور اس کی دعوت میں غور و فکر کریں۔ وہ اس میں کامل ترین صفات، بہترین اخلاق اور ایسی عقل و رائے کے سوا کچھ نہیں پائیں گے جو تمام جہانوں پر فوقیت رکھتی ہے۔ وہ بھلائی کے سوا کسی چیز کی دعوت نہیں دیتا اور برائی کے سوا کسی چیز سے نہیں روکتا۔ پس اے صاحبان عقل و دانش! کیا اس شخص کو جنون لاحق ہے یا یہ شخص بہت بڑا رہ نما، کھلا خیر خواہ، مجد و کرم کا مالک اور رؤف و رحیم ہے؟ بنابریں فرمایا: ﴿ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ وہ تو صرف ڈرانے والا ہے یعنی وہ تمام مخلوق کو اس چیز کی طرف بلاتا ہے جو انھیں عذاب سے نجات دے اور جس سے انھیں ثواب حاصل ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{أوَ لَمْ يتفكَّروا ما بصاحبهم}: [محمدٍ]- صلى الله عليه وسلم - {من جِنَّةٍ}؛ أي: أولم يُعْمِلوا أفكارهم وينظروا هل في صاحبهم الذي يعرفونه ولا يخفى عليهم من حاله شيءٌ؛ هل هو مجنونٌ؟! فلينظروا في أخلاقه وهديه ودلِّه وصفاته، وينظروا فيما دعا إليه؛ فلا يجدون فيه من الصفات إلا أكملها، ولا من الأخلاق إلا أتمَّها، ولا من العقل والرأي إلا ما فاق به العالمين، ولا يدعو إلا لكلِّ خير، ولا ينهى إلا عن كلِّ شرٍّ! أفبهذا يا أولي الألباب جِنَّة ؟! أم هو الإمام العظيم والناصح المبين والماجد الكريم والرءوف الرحيم؟! ولهذا قال: {إن هو إلا نذيرٌ مبينٌ}؛ أي: يدعو الخلق إلى ما يُنجيهم من العذاب، ويحصِّل لهم الثواب.