تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
مگر گمراہ شخص کی ہدایت کی کوئی سبیل نہیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ مَنْیُّضْلِلِاللّٰهُفَلَاهَادِیَلَهٗ١ؕوَیَذَرُهُمْفِیْطُغْیَانِهِمْیَعْمَهُوْنَ ﴾”جس کو اللہ گمراہ کر دے، اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور اللہ چھوڑے رکھتا ہے ان کو گمراہی میں سرگرداں “ یعنی وہ اپنی سرکشی میں حیران و سرگرداں پھرتے ہیں، وہ اپنی سرکشی سے نکل کر حق کی طرف نہیں آتے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولكن الضالَّ لا حيلة فيه ولا سبيل إلى هدايته، ولهذا قال تعالى: {مَن يُضْلِلِ الله فلا هاديَ له وَيَذَرُهم في طغيانِهِم يعمهونَ}؛ أي: متحيَّرون ، يتردَّدون لا يخرجون منه، ولا يهتدون إلى حقٍّ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔