تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 186

مَنۡ یُّضۡلِلِ اللّٰہُ فَلَا ہَادِیَ لَہٗ ؕ وَ یَذَرُہُمۡ فِیۡ طُغۡیَانِہِمۡ یَعۡمَہُوۡنَ ﴿۱۸۶﴾
جسے اللہ گمراہ کر دے پھر اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور وہ انھیں ان کی سرکشی میں چھوڑ دیتا ہے، بھٹکتے پھرتے ہیں۔ En
جس شخص کو خدا گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور وہ ان (گمراہوں) کو چھوڑے رکھتا ہے کہ اپنی سرکشی میں پڑے بہکتے رہیں
En
جس کو اللہ تعالیٰ گمراه کر دے اس کو کوئی راه پر نہیں ﻻ سکتا۔ اور اللہ تعالیٰ ان کو ان کی گمراہی میں بھٹکتے ہوئے چھوڑ دیتا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

مگر گمراہ شخص کی ہدایت کی کوئی سبیل نہیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِیَ لَهٗ١ؕ وَیَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ جس کو اللہ گمراہ کر دے، اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور اللہ چھوڑے رکھتا ہے ان کو گمراہی میں سرگرداں یعنی وہ اپنی سرکشی میں حیران و سرگرداں پھرتے ہیں، وہ اپنی سرکشی سے نکل کر حق کی طرف نہیں آتے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولكن الضالَّ لا حيلة فيه ولا سبيل إلى هدايته، ولهذا قال تعالى: {مَن يُضْلِلِ الله فلا هاديَ له وَيَذَرُهم في طغيانِهِم يعمهونَ}؛ أي: متحيَّرون ، يتردَّدون لا يخرجون منه، ولا يهتدون إلى حقٍّ.