تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَاُمْلِیْلَهُمْ﴾”اور میں ان کو مہلت دیتا ہوں “ یہاں تک کہ وہ یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ ان کا مواخذہ نہیں کیا جائے گا اور ان کو سزا نہیں دی جائے گی، پس وہ کفر اور سرکشی میں بڑھتے چلے جاتے ہیں اور ان کے شر میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ بنابریں ان کی سزا میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے اور ان کا عذاب کئی گنا بڑھ جاتا ہے اور انھیں علم تک نہیں ہوتا۔ اس لیے فرمایا: ﴿ اِنَّكَیْدِیْمَتِیْنٌ ﴾”میری تدبیر (بڑی) مضبوط ہے۔“ یعنی میری چال بہت مضبوط اور کارگر ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وأملي لهم}؛ أي: أمهلهم حتى يظنُّوا أنهم لا يؤخَذون ولا يعاقَبون، فيزدادون كفراً وطغياناً وشرًّا إلى شرِّهم، وبذلك تزيد عقوبتهم ويتضاعف عذابهم، فيضرُّون أنفسهم من حيث لا يعلمون. ولهذا قال: {إن كيدي متينٌ}؛ أي: قويٌّ بليغٌ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔