تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یعنی ابلیس نے جو کچھ کہا اس کے جواب میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اخْرُجْمِنْهَا ﴾”نکل یہاں سے“ یعنی ذلت و خواری کے ساتھ نکلنا۔ اس سے عزت و اکرام کے ساتھ نکلنا مراد نہیں ﴿ مَذْءُوْمًؔا ﴾ بلکہ مذمت کے ساتھ نکلنا مراد ہے ﴿ مَّدْحُوْرًؔا﴾”مردود ہو کر“ یعنی اللہ تعالیٰ، اس کی رحمت اور ہر بھلائی سے دور ﴿لَاَمْلَ٘ــَٔنَّ٘جَهَنَّمَمِنْكُمْ ﴾”میں تم سے جہنم کو بھردوں گا۔“ یعنی میں جہنم کو تجھ سے اور تیرے پیروکاروں سے بھر دوں گا ﴿ اَجْمَعِیْنَ﴾”تم سب سے“ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے قسم ہے کہ جہنم نافرمانوں کا ٹھکانا ہے، وہ لازمی طور پر جہنم کو ابلیس اور اس کے جن اور انسان پیروکاروں سے بھر دے گا، پھر اللہ تعالیٰ نے آدم کو ابلیس کے شر اور فتنے سے ڈراتے ہوئے فرمایا
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: قال الله لإبليس لما قال ما قال: {اخرُجْ منها}: خروج صَغار واحتقار، لا خروج إكرام، بل {مذؤوماً}؛ أي: مذموماً، {مدحوراً}: مبعداً عن الله وعن رحمته وعن كل خير. {لأملأنَّ جهنَّم}: منك وممَّن تَبِعَكَ منهم {أجمعين}: وهذا قَسَمٌ من الله تعالى أن النار دار العصاة، لا بد أن يملأها من إبليس وأتباعه من الجن والإنس.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔