پھر میں ہر صورت ان کے آگے سے اور ان کے پیچھے سے اور ان کی دائیں طرفوں سے اور ان کی بائیں طرفوں سے آئوں گا اور تو ان کے اکثر کو شکر کرنے والے نہیں پائے گا۔
En
پھر ان کے آگے سے اور پیچھے سے دائیں سے اور بائیں سے (غرض ہر طرف سے) آؤں گا (اور ان کی راہ ماروں گا) اور تو ان میں اکثر کو شکر گزار نہیں پائے گا
پھر ان پر حملہ کروں گا ان کے آگے سے بھی اور ان کے پیچھے سے بھی اور ان کی داہنی جانب سے بھی اور ان کی بائیں جانب سے بھی اور آپ ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائیے گا
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ثُمَّلَاٰتِیَنَّهُمْمِّنْۢبَیْنِاَیْدِیْهِمْوَمِنْخَلْفِهِمْوَعَنْاَیْمَانِهِمْوَعَنْشَمَآىِٕلِهِمْ ﴾”پھر میں ان پر آؤں گا ان کے آگے سے اور پیچھے سے اور دائیں سے اور بائیں سے“ یعنی میں تمام جہات اور تمام اطراف سے ان پر حملہ آور ہوں گا اور ہر طریقے سے جہاں کہیں سے بھی مجھے ان سے اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوگی۔ جب شیطان خبیث کو معلوم ہوگیا کہ اولاد آدم بہت کمزور ہے، ان میں سے بہت سے لوگوں پر بسااوقات غفلت غالب آجاتی ہے تو اس نے ان کو گمراہ کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا اور اس کا گمان سچ نکلا، اس لیے کہنے لگا ﴿وَلَاتَجِدُاَكْثَرَهُمْشٰكِرِیْنَ﴾”اور تو ان میں اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا“ کیونکہ شکر گزاری بھی صراط مستقیم پر چلنے ہی کا حصہ ہے اور شیطان ان کو اس راستے پر گامزن ہونے سے روکتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ اِنَّمَایَدْعُوْاحِزْبَهٗلِیَكُوْنُوْامِنْاَصْحٰؔبِالسَّعِیْرِ﴾ (فاطر: 35؍6) ”وہ تو اپنے گروہ کو اس لیے بلاتا ہے تاکہ وہ جہنم والے بن جائیں۔“شیطان نے جو کچھ کہا اور اپنے فعل کے عزم کا اظہار کیا، اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس پر محض اس لیے متنبہ فرمایا ہے تاکہ ہم اپنے دشمن سے بچتے رہیں اور اس کے مقابلے کے لیے پوری طرح تیار رہیں اور ان راستوں اور داخل ہونے کے ان مقامات کی معرفت حاصل کر کے، جہاں سے وہ حملہ آور ہوتا ہے، اپنی حفاظت کر سکیں۔ پس یہ خبر دے کر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی نعمت کامل سے نوازا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ثمَّ لآتِيَنَّهُم مِنْ بينِ أيديهم ومن خلفِهم وعن أيمانِهِم وعن شمائِلِهم}؛ أي: من جميع الجهات والجوانب، ومن كل طريق يتمكن فيه من إدراك بعض مقصوده فيهم، ولما علم الخبيثُ أنهم ضعفاء قد تغلب الغفلةُ على كثير منهم، وكان جازماً ببذل مجهوده على إغوائهم؛ ظنَّ ـ وصدق ظنُّه ـ فقال: {ولا تجدُ أكثرَهُم شاكرينَ}: فإنَّ القيام بالشكر من سلوك الصراط المستقيم، وهو يريدُ صدَّهم عنه وعدم قيامهم به؛ قال تعالى: {إنَّما يَدْعو حِزْبَه ليكونوا من أصحابِ السَّعير}، وإنما نَبَّهَنا الله على ما قال، وعزم على فعله، لنأخذَ منه حِذْرَنا، ونستعدَّ لعدوِّنا، ونحترزَ منه بعلْمِنا بالطُرُق التي يأتي منها ومداخله التي ينفذ منها؛ فله تعالى علينا بذلك أكمل نعمة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔