ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأعراف (7) — آیت 18

قَالَ اخۡرُجۡ مِنۡہَا مَذۡءُوۡمًا مَّدۡحُوۡرًا ؕ لَمَنۡ تَبِعَکَ مِنۡہُمۡ لَاَمۡلَـَٔنَّ جَہَنَّمَ مِنۡکُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿۱۸﴾
فرمایا اس سے نکل جا، مذمت کیا ہوا ، دھتکارا ہوا، بے شک ان میں سے جو تیرے پیچھے چلے گا میں ضرور ہی جہنم کو تم سب سے بھروں گا۔ En
(خدا نے) فرمایا، نکل جا۔ یہاں سے پاجی۔ مردود جو لوگ ان میں سے تیری پیروی کریں گے میں (ان کو اور تجھ کو جہنم میں ڈال کر) تم سب سے جہنم کو بھر دوں گا
En
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہاں سے ذلیل وخوار ہوکر نکل جا جو شخص ان میں سے تیرا کہنا مانے گا میں ضرور تم سب سے جہنم کو بھردوں گا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 17 میں تا آیت 19 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

18۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”یہاں سے نکل جا۔ تو میری درگاہ سے ٹھکرایا ہوا اور رسوا شدہ مخلوق ہے۔ (یاد رکھ) انسانوں سے جو بھی تیری پیروی کرے گا۔ تیرے سمیت [15] ان سب سے جہنم کو بھر دوں گا“
[15] یہ سب گفتگو شیطان کے سیدنا آدمؑ کو سجدہ نہ کرنے کے موقعہ پر ہوئی۔ ابلیس کی اس گستاخانہ گفتگو کے بعد اللہ تعالیٰ نے اسے جنت سے نکل جانے کا حکم دے دیا اور فرمایا کہ جنت میں تیرے جیسے متکبر، سرکش اور نافرمان کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے اور ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ آدمؑ کی اولاد میں سے جو تیرے بھرے میں آجائیں گے وہ سب جہنم میں تیرے ساتھی ہوں گے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اللہ تعالیٰ کے نافرمان جہنم کا ایندھن ہیں ٭٭
اس پر اللہ کی لعنت نازل ہوتی ہے، رحمت سے دور کر دیا جاتا ہے۔ فرشتوں کی جماعت سے الگ کر دیا جاتا ہے۔ عیب دار کر کے اتار دیا جاتا ہے۔
لفظ «مَذْءُومًا» ماخوذ ہے، «ذام» اور «ذیم» سے۔ یہ لفظ بہ نسبت لفظ «ذم» کے زیادہ مبالغے والا ہے، پس اس کے معنی عیب دار کے ہوئے اور «مَّدْحُورً» کے معنی دور کئے ہوئے کے ہیں۔ مقصد دونوں سے ایک ہی ہے۔ پس یہ ذلیل ہو کر اللہ کے غضب میں مبتلا ہو کر نیچے اتار دیا گیا۔ اللہ کی لعنت اس پر نازل ہوئی اور نکال دیا گیا۔
اور فرمایا گیا کہ تو اور تیرے ماننے والے سب کے سب جہنم کا ایندھن ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «قَالَ اذْهَبْ فَمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمْ جَزَاءً مَّوفُورًا ـ وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَأَجْلِبْ عَلَيْهِم بِخَيْلِكَ وَرَجِلِكَ وَشَارِكْهُمْ فِى الاٌّمْوَلِ وَالاٌّوْلَـدِ وَعِدْهُمْ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَـنُ إِلاَّ غُرُورًا ـ إِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَـنٌ وَكَفَى بِرَبِّكَ وَكِيلاً» ۱؎ [17-الإسراء:63-65]‏‏‏‏ ’ تمہاری سب کی سزا جہنم ہے تو جس طرح چاہ انہیں بہکا لیکن اس سے مایوس ہو جا کہ میرے خاص بندے تیرے وسوسوں میں آ جائیں ان کا وکیل میں آپ ہوں۔ ‘

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی ابلیس نے جو کچھ کہا اس کے جواب میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اخْرُجْ مِنْهَا نکل یہاں سے یعنی ذلت و خواری کے ساتھ نکلنا۔ اس سے عزت و اکرام کے ساتھ نکلنا مراد نہیں ﴿ مَذْءُوْمًؔا بلکہ مذمت کے ساتھ نکلنا مراد ہے ﴿ مَّدْحُوْرًؔا مردود ہو کر یعنی اللہ تعالیٰ، اس کی رحمت اور ہر بھلائی سے دور ﴿لَاَمْلَ٘ــَٔنَّ٘ جَهَنَّمَ مِنْكُمْ میں تم سے جہنم کو بھردوں گا۔ یعنی میں جہنم کو تجھ سے اور تیرے پیروکاروں سے بھر دوں گا ﴿ اَجْمَعِیْنَ تم سب سے یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے قسم ہے کہ جہنم نافرمانوں کا ٹھکانا ہے، وہ لازمی طور پر جہنم کو ابلیس اور اس کے جن اور انسان پیروکاروں سے بھر دے گا، پھر اللہ تعالیٰ نے آدم کو ابلیس کے شر اور فتنے سے ڈراتے ہوئے فرمایا
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: قال الله لإبليس لما قال ما قال: {اخرُجْ منها}: خروج صَغار واحتقار، لا خروج إكرام، بل {مذؤوماً}؛ أي: مذموماً، {مدحوراً}: مبعداً عن الله وعن رحمته وعن كل خير. {لأملأنَّ جهنَّم}: منك وممَّن تَبِعَكَ منهم {أجمعين}: وهذا قَسَمٌ من الله تعالى أن النار دار العصاة، لا بد أن يملأها من إبليس وأتباعه من الجن والإنس.