تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 176

وَ لَوۡ شِئۡنَا لَرَفَعۡنٰہُ بِہَا وَ لٰکِنَّہٗۤ اَخۡلَدَ اِلَی الۡاَرۡضِ وَ اتَّبَعَ ہَوٰىہُ ۚ فَمَثَلُہٗ کَمَثَلِ الۡکَلۡبِ ۚ اِنۡ تَحۡمِلۡ عَلَیۡہِ یَلۡہَثۡ اَوۡ تَتۡرُکۡہُ یَلۡہَثۡ ؕ ذٰلِکَ مَثَلُ الۡقَوۡمِ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا ۚ فَاقۡصُصِ الۡقَصَصَ لَعَلَّہُمۡ یَتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۱۷۶﴾
اور اگر ہم چاہتے تو اسے ان کے ذریعے بلند کر دیتے، مگر وہ زمین کی طرف چمٹ گیا اور اپنی خواہش کے پیچھے لگ گیا، تو اس کی مثال کتے کی مثال کی طرح ہے کہ اگر تو اس پر حملہ کرے تو زبان نکالے ہانپتا ہے، یا اسے چھوڑ دے تو بھی زبان نکالے ہانپتا ہے، یہ ان لوگوں کی مثال ہے جنھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا۔ سو تو یہ بیان سنا دے، تاکہ وہ غور و فکر کریں۔ En
اور اگر ہم چاہتے تو ان آیتوں سے اس (کے درجے) کو بلند کر دیتے مگر وہ تو پستی کی طرف مائل ہوگیا اور اپنی خواہش کے پیچھے چل پڑا۔ تو اس کی مثال کتے کی سی ہوگئی کہ اگر سختی کرو تو زبان نکالے رہے اور یونہی چھوڑ دو تو بھی زبان نکالے رہے۔ یہی مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تو ان سے یہ قصہ بیان کردو۔ تاکہ وہ فکر کریں
En
اور اگر ہم چاہتے تو اس کو ان آیتوں کی بدولت بلند مرتبہ کر دیتے لیکن وه تو دنیا کی طرف مائل ہوگیا اور اپنی نفسانی خواہش کی پیروی کرنے لگا سو اس کی حالت کتے کی سی ہوگئی کہ اگر تو اس پر حملہ کرے تب بھی ہانپے یا اس کو چھوڑ دے تب بھی ہانپے، یہی حالت ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا۔ سو آپ اس حال کو بیان کر دیجئے شاید وه لوگ کچھ سوچیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے حال پر چھوڑ کر اس کے نفس کے حوالے کر دیا تھا۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا اور اگر ہم چاہتے تو اس کا رتبہ ان آیتوں کی بدولت بلند کر دیتے یعنی ہم اسے آیات الٰہی پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرتے اور یوں وہ دنیا و آخرت میں بلند درجات پاتا اور اپنے دشمنوں سے محفوظ ہو جاتا ﴿ وَلٰكِنَّهٗۤ مگر اس نے ایسے افعال سرانجام دیے جو اس بات کا تقاضا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنی توفیق سے محروم کر دے۔ ﴿ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وہ ہو رہا زمین کا یعنی وہ سفلی جذبات و خواہشات اور دنیاوی مقاصد کی طرف مائل ہوگیا ﴿ وَاتَّ٘بَعَ هَوٰىهُ اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گیا اور اپنے آقا و مولیٰ کی اطاعت چھوڑ دی۔ ﴿ فَمَثَلُهٗ تو اس کی مثال۔ پس دنیا کی حرص کی شدت اور اس کی طرف میلان میں اس کی حالت یہ ہوگئی ﴿ كَمَثَلِ الْكَلْبِ١ۚ اِنْ تَحْمِلْ عَلَیْهِ یَلْهَثْ اَوْ تَتْرُؔكْهُ یَلْهَثْ جیسے کتا ہوتا ہے، اس پر تو بوجھ لادے تو ہانپے اور چھوڑ دے تو ہانپے یعنی وہ ہر حال میں (حرص کی وجہ سے) زبان باہر نکالے رکھتا ہے، سخت لالچی بنا رہتا ہے، اس میں ایسی حرص ہے جس نے اس کے دل کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے رکھ دیا ہے دنیا کی کوئی چیز اس کی محتاجی کو دور نہیں کر سکتی۔ ﴿ ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا یہ مثال ہے ان لوگوں کی جنھوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف اپنی آیات بھیجیں مگر انھوں نے ان کی اطاعت نہ کی بلکہ انھوں نے خواہشات نفس کی پیروی میں ان آیات کو جھٹلا کر ٹھکرا دیا۔ ﴿ فَاقْ٘صُصِ الْ٘قَ٘صَصَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَؔكَّـرُوْنَ پس بیان کرو یہ احوال تاکہ وہ غوروفکر کریں یعنی شاید وہ ان ضرب الامثال، آیات الٰہی اور عبرتوں میں غور و فکر کریں۔ کیونکہ جب وہ غور و فکر کریں گے تو انھیں علم حاصل ہوگا، جب علم حاصل ہوگا تو اس پر عمل بھی کریں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وهذا لأنَّ الله تعالى خَذَلَه ووَكَلَه إلى نفسه؛ فلهذا قال تعالى: {ولو شِئْنا لرَفَعْناه بها}: بأن نوفِّقه للعمل بها، فيرتفع في الدنيا والآخرة، فيتحصَّن من أعدائه، {ولكنَّه}: فعل ما يقتضي الخذلان؛ فأخلدَ إلى الأرضِ؛ أي: إلى الشهوات السفليَّة والمقاصد الدنيويَّة، {واتَّبع هواه}: وترك طاعة مولاه. {فَمَثله}: في شدة حرصه على الدنيا وانقطاع قلبه إليها {كمثل الكلب إن تَحْمِلْ عليه يَلْهَثْ أو تترُكْهُ يلهثْ}؛ أي: لا يزال لاهثاً في كل حال، وهذا لا يزال حريصاً حرصاً قاطعاً قلبه لا يسدُّ فاقتَهُ شيءٌ من الدُّنيا. {ذلك مَثَلُ القوم الذين كذَّبوا بآياتنا}: بعد أن ساقها الله إليهم، فلم ينقادوا لها، بل كذَّبوا بها وردُّوها لهوانهم على الله واتِّباعهم لأهوائهم بغير هدى من الله. {فاقصُص القَصَص لعلَّهم يتفكَّرون}: في ضرب الأمثال وفي العبر والآيات؛ فإذا تفكَّروا؛ علموا، وإذا علموا؛ عملوا.