تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ …: ” لَهَثٌ“} تھکاوٹ یا پیاس اور گرمی کی وجہ سے زبان باہر نکال کر ہانپنے کو کہتے ہیں۔ دوسرے جانوروں پر اگر حملہ کیا جائے تو دوڑنے اور پیاس اور گرمی کی وجہ سے وہ ہانپنے لگتے ہیں، لیکن اگر انھیں کچھ نہ کہا جائے تو آرام سے بیٹھے رہتے ہیں، زبان باہر نکالے ہوئے ہانپتے نہیں، مگر کتا ایسا جانور ہے کہ تازہ ہوا سہولت کے ساتھ نہ اندر کھینچ سکتا ہے نہ گرم ہوا باہر نکال سکتا ہے، اس لیے کوئی اس پر حملہ کرے اور دوڑنے کی وجہ سے اسے سانس چڑھا ہو یا وہ آرام سے بیٹھا ہو، ہر حال میں اس کی زبان لٹکی ہوئی ہو گی اور وہ ہانپ رہا ہو گا۔ دنیا کی حرص کی وجہ سے اللہ کی آیات کو جھٹلانے والے کی مثال اس کتے کی سی ہے۔ کیونکہ اگر وہ اپنے علم کے مطابق اللہ کی آیات پر ایمان لاتا اور عمل کرتا تو اپنی ضروریات اور خواہشات کو اللہ اور اس کے رسول کے مطابق حلال تک محدود کرکے باقی وقت ہر قسم کی حرص اور فکر سے آزاد ہو کر اللہ کی بندگی اور دین کی تعلیم و تعلم اور اس پر عمل میں صرف کرتا تو نہایت چین اور اطمینان کے ساتھ حیاتِ طیبہ بسر کرتا۔ مگر اسے دنیا کی ضرورت تھی یا نہ تھی، حلال وحرام ہر طریقے سے ہر وقت دنیا کے حصول کی جدوجہد میں لگا رہا، اس کتے کی طرح جس پر حملہ ہو یا نہ ہو، زبان نکالے ہانپتا رہتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے لائق بری مثال نہیں ہے، وہ شخص جو اپنا دیا ہوا ہبہ واپس لیتا ہے اس کتے کی طرح ہے جو دوبارہ اپنی قے چاٹ لیتا ہے۔“ [بخاری، الہبۃ و فضلھا، باب لا یحل لأحد أن یرجع فی ہبتہ: ۲۶۲۲، عن ابن عباس رضی اللہ عنھما]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
مگر چونکہ اس کا ارادہ بددعا کا تھا لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اس کو جو کرامات و برکات دی تھیں سب اس سے سلب ہو گئیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ یمنی شخص تھا جس نے کلام اللہ کو ترک کر دیا تھا۔ یہ شخص بنی اسرائیل کے علماء میں سے تھا، اس کی دعا مقبول ہو جایا کرتی تھی۔ بنی اسرائیل سختیوں کے وقت اسے آگے کر دیا کرتے تھے، اللہ اس کی دعا مقبول فرما لیا کرتا تھا۔ اسے موسیٰ علیہ السلام نے مدین کے بادشاہ کی طرف اللہ کے دین کی دعوت دینے کے لئے بھیجا تھا۔ اس عقلمند بادشاہ نے اسے مکر و فریب سے اپنا کر لیا، اس کے نام کئی گاؤں کر دیئے اور بہت کچھ انعام و اکرام دیا۔ یہ بد نصیب دین موسوی کو چھوڑ کر اس کے مذہب میں جا ملا۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا نام ”بلعام“ تھا۔ یہ بھی ہے کہ یہ ”امیہ بن ابوصلت“ ہے۔ ممکن ہے کہ یہ کہنے والے کی یہ مراد ہو کہ یہ امیہ بھی اسی کے مشابہ تھا، اسے بھی اگلی شریعتوں کا علم تھا لیکن یہ ان سے فائدہ نہ اٹھا سکا۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کو بھی اس نے پایا، آپ کی آیات و بینات دیکھیں، معجزے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیے، ہزارہا کو دین حق میں داخل ہوتے دیکھا، لیکن مشرکین کے میل جول، ان میں امتیاز، ان میں دوستی اور وہاں کی سرداری کی ہوس نے اسے اسلام اور قبول حق سے روک دیا۔ اسی نے بدری کافروں کے ماتم میں مرثیے کہے، «لعنتہ اللہ» ۔
بعض احادیث میں وارد ہے کہ { اس کی زبان تو ایمان لا چکی تھی لیکن دل مومن نہیں ہوا تھا۔ کہتے ہیں کہ اس شخص سے اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا کہ اس کی تین دعائیں جو بھی یہ کرے گا، مقبول ہوں گی۔ اس کی بیوی نے ایک مرتبہ اس سے کہا کہ ان تین دعاؤں میں سے ایک دعا میرے لیے کر۔ اس نے منظور کر لیا اور پوچھا: کیا دعا کرانا چاہتی ہو؟ اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس قدر حسن و خوبصورتی عطا فرمائے کہ مجھ سے زیادہ حسین عورت بنی اسرائیل میں کوئی نہ ہو۔
مشہور بات تو یہی ہے کہ بنی اسرائیل کے بزرگوں میں سے یہ ایک شخص تھا۔ بعض لوگوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ یہ نبی تھا۔ یہ محض غلط ہے، بالکل جھوٹ ہے اور کھلا افترا ہے۔
مروی ہے کہ { موسیٰ علیہ السلام جب قوم جبارین سے لڑائی کے لیے بنی اسرائیل کی ہمراہی میں گئے، انہی جبارین میں بلعام نامی یہ شخص تھا، اس کی قوم اور اس کے قرابت دار چچا وغیرہ سب اس کے پاس آئے اور کہا کہ موسیٰ علیہ السلام اور اس کی قوم کے لیے آپ بد دعا کیجئے۔ اس نے کہا: یہ نہیں ہو سکتا، اگر میں ایسا کروں گا تو میری دنیا و آخرت دونوں خراب ہو جائیں گی لیکن قوم سر ہو گئی۔ یہ بھی لحاظ مروت میں آ گیا۔ بد دعا کی، اللہ تعالیٰ نے اس سے کرامت چھین لی اور اسے اس کے مرتبے سے گرا دیا۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:122/6]
مسند ابویعلیٰ موصلی میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تم پر سب سے زیادہ اس سے ڈرتا ہوں جو قران پڑھ لے گا، جو اسلام کی چادر اوڑھے ہوئے ہو گا اور دینی ترقی پر ہو گا کہ ایک دم اس سے ہٹ جائے گا، اسے پس پشت ڈال دے گا، اپنے پڑوسی پر تلوار لے دوڑے گا اور اسے شرک کی تہمت لگائے گا۔ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مشرک ہونے کے زیادہ قابل کون ہو گا؟ یہ تہمت لگانے والا یا وہ جسے تہمت لگا رہا ہے؟ فرمایا: نہیں بلکہ تہمت دھرنے والا۔ } ۱؎ [المطالب العالیہ لابن حجر:273/4-274]
کہتے ہیں کہ اس بلعام سے لوگوں نے درخواست کی کہ آپ موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کے حق میں بد دعا کیجئے۔ اس نے کہا: اچھا! میں اللہ سے حکم لے لوں۔ جب اس نے اللہ تعالیٰ سے مناجات کی تو اسے معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل مسلمان ہیں اور ان میں اللہ کے نبی موجود ہیں۔ اس نے سب سے کہا کہ مجھے بد دعا کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ انہوں نے بہت سارے تحفے تحائف جمع کر کے اسے دیئے، اس نے سب رکھ لیے۔ پھر دوبارہ درخواست کی کہ ہمیں ان سے بہت خوف ہے، آپ ضرور ان پر بد دعا کیجئے۔ اس نے جواب دیا کہ جب تک میں اللہ تعالیٰ سے اجازت نہ لے لوں، میں ہرگز یہ نہ کروں گا۔ اس نے پھر اللہ سے مناجات کی لیکن اسے کچھ معلوم نہ ہو سکا۔ اس نے یہی جواب انہیں دیا تو انہوں نے کہا: دیکھو! اگر منع ہی مقصود ہوتا تو آپ کو روک دیا جاتا جیسا کہ اس سے پہلے روک دیا گیا۔
خود بادشاہ کی بڑی حسین و جمیل لڑکی بھی بن ٹھن کر نکلی۔ اسے ہدایت کر دی تھی کہ سوائے موسیٰ علیہ السلام کے اور کسی کو اپنا نفس نہ سونپے۔ یہ عورتیں جب بنی اسرائیل کے لشکر میں پہنچیں تو عام لوگ بےقابو ہو گئے، حرام کاری سے بچ نہ سکے۔
شہزادی بنی اسرائیل کے ایک سردار کے پاس پہنچی، اس سردار نے اس لڑکی پر ڈورے ڈالے لیکن اس لڑکی نے انکار کیا۔ اس نے بتایا کہ میں فلاں فلاں ہوں، اس نے اپنے باپ سے یا بلعام سے پچھوایا، اس نے اجازت دی۔
اب اس لشکر پر عذاب رب بشکل طاعون آیا اور ستر ہزار آدمی فوراً ہلاک ہو گئے۔ بلعام اپنی گدھی پر سوار ہو کر چلا، وہ ایک ٹیلے پر چڑھ کر رک گئی۔ اب بلعام اسے مارتا پیٹتا ہے لیکن وہ قدم نہیں اٹھاتی۔ آخر گدھی نے اس کی طرف دیکھا اور کہا: مجھے کیوں مارتا ہے، سامنے دیکھ کون ہے؟ اس نے دیکھا تو شیطان لعین کھڑا ہوا تھا، یہ اتر پڑا اور سجدے میں گر گیا۔ الغرض ایمان سے خالی ہو گیا۔
اس کا نام یا تو بلعام تھا یا بلعم بن باعوراء یا ابن ابر یا ابن باعور بن شہتوم بن قوشتم بن مآب بن لوط بن ہاران یا ابن حران بن آزر۔ یہ بلقا کا رئیس تھا، اسم اعظم جانتا تھا لیکن اخیر میں دین حق سے ہٹ گیا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ایک روایت میں ہے کہ قوم کے زیادہ کہنے سننے سے جب یہ اپنی گدھی پر سوار ہو کر بد دعا کے لیے چلا تو اس کی گدھی بیٹھ گئی۔ اس نے اسے مار پیٹ کر اٹھایا، کچھ دور چل کر پھر بیٹھ گئی۔ اس نے اسے پھر مار پیٹ کر اٹھایا، اسے اللہ نے زبان دی۔ اس نے کہا: تیرا ناس جائے! تو کہاں اور کیوں جا رہا ہے؟ اللہ کے مقابلے کو، اس کے رسول سے لڑنے اور مومنوں کو نقصان دلانے جا رہا ہے؟ دیکھو تو سہی! فرشتے میری راہ روکے کھڑے ہیں۔ اس نے پھر بھی کچھ خیال نہ کیا، آگے بڑھ گیا۔
اسی وقت اس کی زبان نکل پڑی، سینے پر لٹکنے لگی۔ اس نے کہا: لو میری دنیا بھی خراب ہوئی اور دین تو بالکل برباد ہو گیا۔ پھر اس نے خوبصورت لڑکیاں بھیجنے کی ترکیب بتائی جیسے کہ اوپر بیان ہوا اور کہا کہ اگر ان میں سے ایک نے بھی بدکاری کر لی تو ان پر عذاب رب آ جائے گا۔ ان عورتوں میں سے ایک بہت ہی حسین عورت جو کنعانیہ تھی اور جس کا نام کسبی تھا جو صور نامی ایک رئیس کی بیٹی تھی، جب وہ بنی اسرائیل کے ایک بہت بڑے سردار زمری بن شلوم کے پاس سے گزری جو شمعون بن یعقوب کی نسل میں سے تھا، وہ اس پر فریفتہ ہو گیا۔ دلیری کے ساتھ اس کا ہاتھ تھامے ہوئے موسیٰ علیہ السلام کے پاس گیا اور کہنے لگا: آپ تو شاید کہہ دیں گے کہ یہ مجھ پر حرام ہے؟ آپ نے کہا: بیشک۔ اس نے کہا: اچھا! میں آپ کی یہ بات تو نہیں مان سکتا، اسے اپنے خیمے میں لے گیا اور اس سے منہ کالا کرنے لگا۔
وہیں اللہ تعالیٰ نے ان پر طاعون بھیج دیا۔ فنحاض بن عیزار بن ہارون اس وقت لشکر گاہ سے کہیں باہر گئے ہوئے تھے، جب آئے تو تمام حقیقت سنی تو بیتاب ہو کر غصے کے ساتھ اس بد کردار کے خیمے میں پہنچے اور اپنے نیزے میں ان دونوں کو پرو لیا اور اپنے ہاتھ میں نیزہ لیے ہوئے انہیں اوپر اٹھائے ہوئے باہر نکلے۔ کہنی کوکھ پر لگائے ہوئے کہنے لگے: یااللہ! ہمیں معاف فرما۔ ہم پر سے یہ وبا دور فرما۔ دیکھ لے، ہم تیرے نافرمانوں کے ساتھ یہ کرتے ہیں۔
بنو اسرائیل میں اب تک یہ دستور چلا آتا ہے کہ وہ اپنے ذبیحہ میں سے گردن اور دست اور سری اور ہر قسم کا سب سے پہلے پھل فنحاص کی اولاد کو دیا کرتے ہیں۔ اسی بلعام بن باعوراء کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔
فرمان ہے کہ اس کی مثال کتے کی سی ہے کہ خالی ہے تو ہانپتا ہے اور دھتکارا جائے تو ہانپتا رہتا ہے۔ یا تو اس مثال سے یہ مطلب ہے کہ بلعام کی زبان نیچے کو لٹک پڑی تھی جو پھر اندر کو نہ ہوئی، کتے کی طرح ہانپتا رہتا تھا اور زبان باہر لٹکائے رہتا تھا۔
یہ بھی معنی ہیں کہ اس کی ضلالت اور اس پر جمے رہنے کی مثال دی کہ اسے ایمان کی دعوت، علم کی دولت غرض کسی چیز نے برائی سے نہ ہٹایا۔ جیسے کتے کی زبان لٹکنے کی حالت برابر قائم رہتی ہے خواہ اسے پاؤں تلے روندو خواہ چھوڑ دو۔
جیسے بعض کفار مکہ کی نسبت فرمان ہے کہ ’ انہیں وعظ و پند کہنا، نہ کہنا سب برابر ہے۔ انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے کا۔ ‘ ۱؎ [2-البقرة:6]
اور جیسے بعض منافقوں کی نسبت فرمان ہے کہ ’ ان کے لیے تو استغفار کر یا نہ کر، اللہ انہیں نہیں بخشے گا۔ ‘ ۱؎ [9-التوبة:80]
یہ بھی مطلب اس مثال کا بیان کیا گیا ہے کہ ان کافروں، منافقوں اور گمراہ لوگوں کے دل بودے اور ہدایت سے خالی ہیں، یہ کبھی مطمئن نہیں ہوتے۔
اسی طرح یہ علماء یہود جو اپنی کتابوں میں اللہ کی ہدایتیں پڑھ رہے ہیں، آپ کے اوصاف لکھے پاتے ہیں، انہیں چاہیئے کہ دنیا کی طمع میں پھنس کر اپنے مریدوں کو پھانس کر پھول نہ جائیں ورنہ یہ بھی اسی کی طرح دنیا میں کھو دیئے جائیں گے۔ انہیں چاہیئے کہ اپنی علمیت سے فائدہ اٹھائیں۔ سب سے پہلے تیری اطاعت کی طرف جھکیں اور اوروں پر حق کو ظاہر کریں۔
دیکھ لو کہ کفار کی کیسی بری مثالیں ہیں کہ کتوں کی طرح صرف نگلنے اگلنے اور شہوت زنی میں پڑے ہوئے ہیں۔ پس جو بھی علم و ہدایت کو چھوڑ کر خواہش نفس کے پورا کرنے میں لگ جائے، وہ بھی کتے جیسا ہی ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { ہمارے لیے بری مثالیں نہیں، اپنی ہبہ کی ہوئی چیز کو پھر لے لینے والا کتے کی طرح ہے جو قے کر کے چاٹ لیتا ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2622]
پھر فرماتا ہے کہ گنہگار لوگ اللہ کا کچھ بگاڑتے نہیں، یہ تو اپنا ہی خسارہ کرتے ہیں۔ طاعت مولیٰ، اتباع ہدیٰ سے ہٹا کر خواہش کی غلامی، دنیا کی چاہت میں پڑ کر اپنے دونوں جہان خراب کرتے ہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهذا لأنَّ الله تعالى خَذَلَه ووَكَلَه إلى نفسه؛ فلهذا قال تعالى: {ولو شِئْنا لرَفَعْناه بها}: بأن نوفِّقه للعمل بها، فيرتفع في الدنيا والآخرة، فيتحصَّن من أعدائه، {ولكنَّه}: فعل ما يقتضي الخذلان؛ فأخلدَ إلى الأرضِ؛ أي: إلى الشهوات السفليَّة والمقاصد الدنيويَّة، {واتَّبع هواه}: وترك طاعة مولاه. {فَمَثله}: في شدة حرصه على الدنيا وانقطاع قلبه إليها {كمثل الكلب إن تَحْمِلْ عليه يَلْهَثْ أو تترُكْهُ يلهثْ}؛ أي: لا يزال لاهثاً في كل حال، وهذا لا يزال حريصاً حرصاً قاطعاً قلبه لا يسدُّ فاقتَهُ شيءٌ من الدُّنيا. {ذلك مَثَلُ القوم الذين كذَّبوا بآياتنا}: بعد أن ساقها الله إليهم، فلم ينقادوا لها، بل كذَّبوا بها وردُّوها لهوانهم على الله واتِّباعهم لأهوائهم بغير هدى من الله. {فاقصُص القَصَص لعلَّهم يتفكَّرون}: في ضرب الأمثال وفي العبر والآيات؛ فإذا تفكَّروا؛ علموا، وإذا علموا؛ عملوا.