تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 175

وَ اتۡلُ عَلَیۡہِمۡ نَبَاَ الَّذِیۡۤ اٰتَیۡنٰہُ اٰیٰتِنَا فَانۡسَلَخَ مِنۡہَا فَاَتۡبَعَہُ الشَّیۡطٰنُ فَکَانَ مِنَ الۡغٰوِیۡنَ ﴿۱۷۵﴾
اور انھیں اس شخص کی خبر پڑھ کر سنا جسے ہم نے اپنی آیات عطا کیں تو وہ ان سے صاف نکل گیا، پھر شیطان نے اسے پیچھے لگا لیا تو وہ گمراہوں میں سے ہوگیا۔ En
اور ان کو اس شخص کا حال پڑھ کر سنا دو جس کو ہم نے اپنی آیتیں عطا فرمائیں (اور ہفت پارچہٴ علم شرائع سے مزین کیا) تو اس نے ان کو اتار دیا پھر شیطان اس کے پیچھے لگا تو وہ گمراہوں میں ہوگیا
En
اور ان لوگوں کو اس شخص کا حال پڑھ کر سنائیے کہ جس کو ہم نے اپنی آیتیں دیں پھر وه ان سے بالکل ہی نکل گیا، پھر شیطان اس کے پیچھے لگ گیا سو وه گمراه لوگوں میں شامل ہوگیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَاتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ الَّذِیْۤ اٰتَیْنٰهُ اٰیٰتِنَااور سنا دو ان کو حال اس شخص کا جس کو ہم نے اپنی آیتیں دیں یعنی ہم نے اسے کتاب اللہ کی تعلیم دی اور وہ ایک علامہ اور ماہر عالم بن گیا ﴿ فَانْ٘سَلَ٘خَ مِنْهَا فَاَتْبَعَهُ الشَّ٘یْطٰ٘نُ پھر وہ ان کو چھوڑ نکلا اور شیطان اس کے پیچھے گیا یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کے علم سے حقیقی طور پر متصف نہ ہوا کیونکہ آیات الٰہی کا علم، صاحب علم کو مکارم اخلاق اور محاسن اخلاق سے متصف کر دیتا ہے اور اسے اعلیٰ ترین درجات اور بلند ترین مقامات پر فائز کر دیتا ہے۔ پس اس نے کتاب کو چھوڑ دیا اور ان اخلاق کو دور پھینک دیا جن کا حکم کتاب اللہ دیتی تھی اور ان اخلاق کو اس طرح (اپنی ذات سے) اتار دیا جس طرح لباس اتارا جاتا ہے۔ جب وہ آیات الٰہی سے نکل گیا تو شیطان اس کے پیچھے لگ گیا اور جب وہ مضبوط پناہ گاہ سے نکل بھاگا تو شیطان اس پر مسلط ہوگیا اور یوں وہ ادنیٰ ترین لوگوں میں شامل ہوگیا شیطان نے اسے گناہوں پر آمادہ کیا (اور وہ گناہوں میں گھر گیا) ﴿ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِیْنَ پس وہ گمراہوں میں سے ہوگیا۔ جبکہ وہ ہدایت یافتہ لوگوں میں سے تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى لنبيه - صلى الله عليه وسلم -: {واتلُ عليهم نبأ الذي آتَيْناه آياتِنا}؛ أي: علمناه [علم] كتاب الله فصار العالم الكبير والحبر النحرير فانسلخ منها فأتبعه الشيطان؛ أي: انسلخ من الاتِّصاف الحقيقيِّ بالعلم بآيات الله؛ فإنَّ العلم بذلك يصيِّر صاحبه متصفاً بمكارم الأخلاق ومحاسن الأعمال ويرقى إلى أعلى الدرجات وأرفع المقامات؛ فترك هذا كتاب الله وراء ظهره، ونبذ الأخلاق التي يأمر بها الكتاب، وخلعها كما يُخْلَعُ اللباس، فلما انسلخ منها؛ أتْبَعَهُ الشيطانُ؛ أي: تسلَّط عليه حين خرج من الحصن الحصين وصار إلى أسفل سافلين، فأزَّه إلى المعاصي أزًّا، {فكان من الغاوين}: بعد أن كان من الراشدين المرشدين.