تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
چونکہ یہ معاملہ نہایت واضح اور نمایاں ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَكَذٰلِكَنُفَصِّلُالْاٰیٰتِ ﴾”ہم اس طرح آیات کو کھول کھول کر بیان کر کے واضح کرتے ہیں “﴿ وَلَعَلَّهُمْیَرْجِعُوْنَ ﴾”شاید وہ (اس چیز کی طرف) رجوع کریں، جو اللہ تعالیٰ نے ان کی فطرت میں ودیعت کی ہے اور شاید وہ اس عہد کی طرف لوٹیں جو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہے اور اس طرح وہ برائیوں سے باز آجائیں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولهذا؛ لما كان هذا أمراً واضحاً جليًّا؛ قال تعالى: {وكذلك نفصِّل الآيات}؛ أي: نبيِّنها ونوضِّحها، {ولعلَّهم يرجعون}: إلى ما أودع الله في فِطَرِهم وإلى ما عاهدوا الله عليه فيرتدعوا عن القبائح.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔