تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جب ابلیس اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہوگیا تو کہنے لگا ﴿ فَبِمَاۤاَغْوَیْتَنِیْلَاَقْعُدَنَّلَهُمْ ﴾”جیسا تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، میں بھی ضرور بیٹھوں گا ان کے لیے“ یعنی مخلوق کے لیے ﴿صِرَاطَكَالْمُسْتَقِیْمَ﴾”تیرے سیدھے راستے پر۔“اور لوگوں کو اس راستے سے روکنے اور اس پر چلنے سے منع کرنے کی بھرپور کوشش کروں گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: قال إبليس لَمَّا أُبْلِسَ وأَيِسَ من رحمة الله: {فبما أغْوَيْتَني لأقعدنَّ لهم}؛ أي: للخلق {صراطك المستقيم}؛ أي: لألزمنَّ الصِّراط، ولأسعى غاية جهدي على صدِّ الناس عنه وعدم سلوكهم إياه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔