تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 162

فَبَدَّلَ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡہُمۡ قَوۡلًا غَیۡرَ الَّذِیۡ قِیۡلَ لَہُمۡ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَیۡہِمۡ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا کَانُوۡا یَظۡلِمُوۡنَ ﴿۱۶۲﴾٪
تو ان میں سے جنھوں نے ظلم کیا، انھوں نے بات کو اس کے خلاف بدل دیا جو ان سے کہی گئی تھی، تو ہم نے ان پر آسمان سے ایک عذاب بھیجا، اس وجہ سے کہ وہ ظلم کرتے تھے۔ En
مگر جو ان میں ظالم تھے انہوں نے اس لفظ کو جس کا ان کو حکم دیا گیا تھا بدل کر اس کی جگہ اور لفظ کہنا شروع کیا تو ہم نے ان پر آسمان سے عذاب بھیجا اس لیے کہ ظلم کرتے تھے
En
سو بدل ڈاﻻ ان ﻇالموں نے ایک اور کلمہ جو خلاف تھا اس کلمہ کے جس کی ان سے فرمائش کی گئی تھی، اس پر ہم نے ان پر ایک آفت سماوی بھیجی اس وجہ سے کہ وه حکم کو ضائع کرتے تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ کی بلکہ اس کی خلاف ورزی کی۔﴿ فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ پس بدل ڈالا ظالموں نے ان میں سے یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے حکم کی تحقیر کی ﴿ قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَهُمْ دوسرا لفظ، اس کے سوا جو ان سے کہا گیا تھا پس انھوں نے طلب مغفرت اور (حِطَّۃٌ) کو (حَبَّۃٌ فِی شَعِیرَۃٍ) سے بدل ڈالا۔ جب قول کے آسان اور سہل ہونے کے باوجود انھوں نے اس کو بدل ڈالا تو فعل کو بدلنے کی ان سے بدرجہ اولیٰ توقع کی جا سکتی ہے۔ اس لیے وہ اپنی سرینوں پر گھسٹتے ہوئے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے۔ ﴿ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ تو ہم نے ان پر بھیجا۔ یعنی جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی اور اس کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ ﴿ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ آسمان سے سخت عذاب۔ یہ عذاب یا تو طاعون کی شکل میں تھا یا کوئی اور آسمانی سزا تھی۔ یہ سزا دے کر اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ سزا تو ان کے اس ظلم کی پاداش میں تھی جو وہ کیا کرتے تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فلم يمتثلوا هذا الأمر الإلهيَّ، بل بدَّل الذين ظلموا منهم؛ أي: عصوا الله واستهانوا بأمره {قولاً غير الذي قيل لهم}: فقالوا بدل طلب المغفرة وقولهم حطة: حبَّة في شعيرة، وإذا بدلوا القول مع يسره وسهولته؛ فتبديلهم للفعل من باب أولى، ولهذا دخلوا يزحفون على أَسْتَاهِهم، {فأرسلنا عليهم}: حين خالفوا أمر الله وعَصَوْه {رِجزاً من السماء}؛ أي: عذاباً شديداً إما الطاعون وإما غيره من العقوبات السماويَّة، وما ظلمهم الله بعقابه، وإنَّما كان ذلك {بما كانوا يظلمونَ}.