اور ان سے اس بستی کے بارے پوچھ جو سمندر کے کنارے پر تھی، جب وہ ہفتے کے دن میں حد سے تجاوز کرتے تھے، جب ان کی مچھلیاں ان کے ہفتے کے دن سر اٹھائے ہوئے ان کے پاس آتیں اور جس دن ان کا ہفتہ نہ ہوتا وہ ان کے پاس نہ آتی تھیں، اس طرح ہم ان کی آزمائش کرتے تھے، اس وجہ سے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔
En
اور ان سے اس گاؤں کا حال تو پوچھو جب لب دریا واقع تھا۔ جب یہ لوگ ہفتے کے دن کے بارے میں حد سے تجاوز کرنے لگے (یعنی) اس وقت کہ ان کے ہفتے کے دن مچھلیاں ان کے سامنے پانی کے اوپر آتیں اور جب ہفتے کا دن نہ ہوتا تو نہ آتیں۔ اسی طرح ہم ان لوگوں کو ان کی نافرمانیوں کے سبب آزمائش میں ڈالنے لگے
اور آپ ان لوگوں سے، اس بستی والوں کا جو کہ دریائے (شور) کے قریب آباد تھے اس وقت کا حال پوچھئے! جب کہ وه ہفتہ کے بارے میں حد سے نکل رہے تھے جب کہ ان کے ہفتہ کے روز تو ان کی مچھلیاں ﻇاہر ہو ہو کر ان کے سامنے آتی تھیں، اور جب ہفتہ کا دن نہ ہوتا تو ان کے سامنے نہ آتی تھیں، ہم ان کی اس طرح پر آزمائش کرتے تھے اس سبب سے کہ وه بےحکمی کیا کرتے تھے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَسْـَٔؔلْهُمْ ﴾”ان (بنی اسرائیل) سے پوچھیے“﴿ عَنِالْ٘قَرْیَةِالَّتِیْكَانَتْحَاضِرَةَالْبَحْرِ﴾”اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے تھی“ یعنی جب انھوں نے ظلم و تعدی سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سزا دی اس حال میں کہ بستی سمندر کے کنارے پر تھی۔ ﴿ اِذْیَعْدُوْنَفِیالسَّبْتِ ﴾”جب وہ حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں “ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کی تعظیم اور احترام کریں، ہفتے کے روز شکار نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا۔ ﴿ اِذْتَاْتِیْهِمْحِیْتَانُهُمْیَوْمَسَبْتِهِمْشُ٘رَّعًا ﴾”جب آتیں ان کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، پانی کے اوپر“ یعنی مچھلیاں سطح سمندر پر بہت کثیر تعداد میں تیرتی ہوئی آتیں۔ ﴿ وَّیَوْمَلَایَسْبِتُوْنَ﴾”اور جب سبت کا دن نہ ہوتا“ یعنی سبت کا دن گزر جاتا: ﴿ لَاتَاْتِیْهِمْ ﴾”ان کے پاس نہ آتیں۔“ یعنی مچھلیاں سمندر میں واپس چلی جاتیں اور ان میں سے کوئی مچھلی دکھائی نہ دیتی۔ ﴿ كَذٰلِكَ١ۛۚنَبْلُوْهُمْبِمَاكَانُوْایَفْسُقُوْنَ ﴾”اسی طرح ہم نے ان کو آزمایا، اس لیے کہ وہ نافرمان تھے“ یعنی یہ ان کا فسق تھا جو اس بات کا موجب بنا کہ اللہ تعالیٰ ان کو آزمائے اور ان کا امتحان ہو۔ ورنہ اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا اور ان کو مصیبت اور شر میں مبتلا نہ کرتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{واسْألْهُم}؛ أي: اسأل بني إسرائيل {عن القرية التي كانت حاضرةَ البحر}؛ أي: على ساحله في حال تعدِّيهم وعقاب الله إيَّاهم، {إذ يَعْدونَ في السبتِ}: وكان الله تعالى قد أمرهم أن يعظِّموه ويحترموه ولا يصيدوا فيه صيداً، فابتلاهُم الله وامتحنهم، فكانت الحيتان تأتيهم يومَ سبتهم شُرَّعاً؛ أي: كثيرة طافية على وجه البحر. {ويوم لا يَسْبِتونَ}؛ أي: إذا ذهب يوم السبت {لا تأتيهم}؛ أي: تذهب في البحر فلا يرون منها شيئاً. {كذلك نبلوهُم بما كانوا يفسُقون}: ففسقُهم هو الذي أوجب أن يبتلِيَهم الله وأن تكون لهم هذه المحنة، وإلاَّ؛ فلو لم يفسُقوا؛ لعافاهم الله، ولما عرَّضهم للبلاء والشرِّ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔