اور جب ان سے کہا گیا اس بستی میں رہو اور اس میں سے جہاں چاہو کھائو اور کہو بخش دے اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو تو ہم تمھارے لیے تمھاری خطائیں معاف کر دیں گے، عنقریب ہم نیکی کرنے والوں کو زیادہ دیں گے۔
En
اور (یاد کرو) جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرلو اور اس میں جہاں سے جی چاہے کھانا (پینا) اور (ہاں شہر میں جانا تو) حِطّتہٌ کہنا اور دروازے میں داخل ہونا تو سجدہ کرنا۔ ہم تمہارے گناہ معاف کردیں گے۔ اور نیکی کرنے والوں کو اور زیادہ دیں گے
اور جب ان کو حکم دیا گیا کہ تم لوگ اس آبادی میں جاکر رہو اور کھاؤ اس سے جس جگہ تم رغبت کرو اور زبان سے یہ کہتے جانا کہ توبہ ہے اور جھکے جھکے دروازه میں داخل ہونا ہم تمہاری خطائیں معاف کردیں گے۔ جو لوگ نیک کام کریں گے ان کو مزید برآں اور دیں گے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَاِذْقِیْلَلَهُمُاسْكُنُوْاهٰؔذِهِالْ٘قَرْیَةَ ﴾”جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرو۔“ یعنی اس بستی میں داخل ہو جاؤ تاکہ یہ بستی تمھارا وطن اور مسکن بن جائے۔ یہ بستی ”ایلیاء“ یعنی ”قدس“ کی بستی تھی۔ ﴿ وَكُلُوْامِنْهَاحَیْثُشِئْتُمْ ﴾”اور اس میں سے جو چاہو کھاؤ۔“ یعنی اس بستی میں بہت زیادہ درخت، بے حساب پھل اور وافر سامان زندگی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا کہ جو جی چاہے کھاؤ۔ ﴿وَقُوْلُوْا﴾ یعنی جب تم بستی کے دروازے میں داخل ہو تو کہو۔ ﴿ حِطَّةٌ ﴾ یعنی ہم سے ہمارے گناہوں کو دور کر دے اور ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ وَّادْخُلُواالْبَابَسُجَّدًا ﴾”اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو“ یعنی اپنے رب کے سامنے خشوع و خضوع، اس کے غلبہ کے سامنے انکساری اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے دروازے میں داخل ہو پس اللہ تعالیٰ نے ان کو خضوع و خشوع اور بخشش طلب کرنے کا حکم دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان کے گناہ بخش دینے، دنیاوی اور اخروی ثواب کا وعدہ فرمایا ﴿ نَّ٘غْفِرْلَكُمْخَطِیْٓــٰٔتِكُمْ۠١ؕسَنَزِیْدُالْمُحْسِنِیْنَ ﴾”ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، البتہ زیادہ دیں گے ہم نیکی کرنے والوں کو“ یعنی ہم دنیا اور آخرت کی بھلائی میں اضافہ کریں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وإذ قيلَ لهم اسكنوا هذه القريةَ}؛ أي: ادخلوها لتكون وطناً لكم ومسكناً، وهي إيلياء، {وكلوا منها حيث شئتُم}؛ أي: قرية كانت كثيرة الأشجار غزيرة الثمار رغيدة العيش؛ فلذلك أمرهم الله أن يأكلوا منها حيث شاؤوا، {وقولوا}: حين تدخلون الباب: {حِطَّةٌ}؛ أي: احطُطْ عنَّا خطايانا واعفُ عنا، {وادخُلوا الباب سجَّداً}؛ أي خاضعين لربكم مستكينين لعزَّته شاكرين لنعمته؛ فأمرهم بالخضوع وسؤال المغفرة، ووعدهم على ذلك مغفرة ذنوبهم والثواب العاجل والآجل، فقال: {نغفر لكم خطيئاتِكُم سنزيدُ المحسنينَ}: من خير الدنيا والآخرة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔