تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جب اللہ کے دشمن نے اللہ تعالیٰ کے سامنے، آدم اور اولاد آدم کے ساتھ عداوت کا اعلان کیا تو اس نے اللہ تعالیٰ سے قیامت تک کے لیے مہلت مانگی تاکہ وہ مقدور بھر اولاد آدم کو گمراہ کر سکے اور چونکہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا تھا کہ وہ اپنے بندوں کو آزمائش اور امتحان میں مبتلا کرے تاکہ سچے اور جھوٹے کے درمیان امتیاز ہو جائے۔ نیز یہ بھی معلوم ہو جائے کہ کون اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے اور کون اس کے دشمن کی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو مہلت دے دی اور فرمایا: ﴿ اِنَّكَمِنَالْمُنْظَ٘رِیْنَ ﴾”تجھ کو مہلت دی گئی“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فلما أعلن عدوُّ الله بعداوة الله وعداوة آدم وذريَّته؛ سأل الله النَّظِرة والإمهال إلى يوم البعث؛ ليتمكَّنَ من إغواءِ ما يقدِرُ عليه من بني آدم، ولما كانت حكمة الله مقتضيةً لابتلاء العباد واختبارهم ليتبيَّنَ الصادق من الكاذب ومَن يطيعه ومن يطيع عدوَّه؛ أجابه لما سأل، فقال: {إنَّك من المُنظَرينَ}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔