ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأعراف (7) — آیت 14

قَالَ اَنۡظِرۡنِیۡۤ اِلٰی یَوۡمِ یُبۡعَثُوۡنَ ﴿۱۴﴾
اس نے کہا مجھے اس دن تک مہلت دے جب یہ اٹھائے جائیں گے۔ En
اس نے کہا کہ مجھے اس دن تک مہلت عطا فرما جس دن لوگ (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے
En
اس نے کہا کہ مجھ کو مہلت دیجئے قیامت کے دن تک En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 13 میں تا آیت 15 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

14۔ ابلیس کہنے لگا: ”اچھا پھر مجھے روز محشر تک مہلت دے دے“

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

نافرمانی کی سزا ٭٭
ابلیس کو اسی وقت حکم ملا کہ میری نافرمانی اور میری اطاعت سے رکنے کے باعث اب تو یہاں جنت میں رہ نہیں سکتا، یہاں سے اتر جا کیونکہ یہ جگہ تکبر کرنے کی نہیں۔
بعض نے کہا ہے: «فیھا» کی ضمیر کا مرجع منزلت ہے یعنی جن ملکوت اعلی میں تو ہے، اس مرتبے میں کوئی سرکش رہ نہیں سکتا۔ جا یہاں سے چلا جا۔ تو اپنی سرکشی کے بدلے ذلیل و خوار ہستیوں میں شامل کر دیا گیا۔ تیری ضد اور ہٹ دھرمی کی یہی سزا ہے۔
اب لعین گھبرایا اور اللہ سے مہلت چاہنے لگا کہ مجھے قیامت تک کی ڈھیل دی جائے۔ چونکہ جناب باری جل جلالہ کی اس میں مصلحتیں اور حکمتیں تھیں، بھلے بروں کو دنیا میں ظاہر کرنا تھا اور اپنی حجت پوری کرنا تھی۔ اس ملعون کی اس درخواست کو منظور فرما لیا۔ اس حاکم پر کسی کی حکومت نہیں، اس کے سامنے بولنے کی کسی کو مجال نہیں، کوئی نہیں جو اس کے ارادے کو ٹال سکے، کوئی نہیں جو اس کے حکم کو بدل سکے۔ وہ سریع الحساب ہے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب اللہ کے دشمن نے اللہ تعالیٰ کے سامنے، آدم اور اولاد آدم کے ساتھ عداوت کا اعلان کیا تو اس نے اللہ تعالیٰ سے قیامت تک کے لیے مہلت مانگی تاکہ وہ مقدور بھر اولاد آدم کو گمراہ کر سکے اور چونکہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا تھا کہ وہ اپنے بندوں کو آزمائش اور امتحان میں مبتلا کرے تاکہ سچے اور جھوٹے کے درمیان امتیاز ہو جائے۔ نیز یہ بھی معلوم ہو جائے کہ کون اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے اور کون اس کے دشمن کی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو مہلت دے دی اور فرمایا: ﴿ اِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَ٘رِیْنَ تجھ کو مہلت دی گئی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فلما أعلن عدوُّ الله بعداوة الله وعداوة آدم وذريَّته؛ سأل الله النَّظِرة والإمهال إلى يوم البعث؛ ليتمكَّنَ من إغواءِ ما يقدِرُ عليه من بني آدم، ولما كانت حكمة الله مقتضيةً لابتلاء العباد واختبارهم ليتبيَّنَ الصادق من الكاذب ومَن يطيعه ومن يطيع عدوَّه؛ أجابه لما سأل، فقال: {إنَّك من المُنظَرينَ}.