تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اسی لیے شیطان نے اس قسم کے افعال کا ارتکاب کیا اور اسی لیے وہ بلند ترین درجات سے گر کر اسفل السافلین کی سطح پر جا پہنچا۔پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ فَاهْبِطْمِنْهَا ﴾”تو اس سے اترجا۔“ یعنی جنت سے اتر جا ﴿ فَمَایَكُوْنُلَكَاَنْتَتَكَبَّرَفِیْهَا ﴾”تیرے یہ شایاں نہیں کہ تو یہاں (جنت میں) رہ کر تکبر کرے“ کیونکہ یہ طیب اور طاہر لوگوں کا گھر ہے، پس یہ جنت اللہ تعالیٰ کی بدترین اور خبیث ترین مخلوق کے لائق نہیں۔ ﴿فَاخْرُجْاِنَّكَمِنَالصّٰغِرِیْنَ﴾”پس نکل جا تو ذلیل ہے۔“ یعنی تو حقیر ترین اور ذلیل ترین مخلوق ہے اللہ تعالیٰ نے اس کے تکبر اور خود پسندی پر اہانت اور ذلت کی سزا دی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولهذا؛ لما جرى من إبليس ما جرى؛ انحطَّ من مرتبته العالية إلى أسفل السافلين، فقال الله له: اهبطْ {منها} أي: من الجنة، {فما يكونُ لك أن تتكبَّرَ فيها}: لأنها دار الطيبين الطاهرين، فلا تَليقُ بأخبث خَلْق الله وأشرهم، {فاخرُجْ إنَّك من الصاغرين}؛ أي: المهانين الأذلين؛ جزاء على كبره وعجبه بالإهانة والذل.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔