تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 139

اِنَّ ہٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا ہُمۡ فِیۡہِ وَ بٰطِلٌ مَّا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۳۹﴾
بے شک یہ لوگ، تباہ کیا جانے والا ہے وہ کام جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور باطل ہے جو کچھ وہ کرتے چلے آرہے ہیں۔ En
یہ لوگ جس (شغل) میں (پھنسے ہوئے) ہیں وہ برباد ہونے والا ہے اور جو کام یہ کرتے ہیں سب بیہودہ ہیں
En
یہ لوگ جس کام میں لگے ہیں یہ تباه کیا جائے گا اور ان کا یہ کام محض بےبنیاد ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

بنابریں موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِیْهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ یہ لوگ، تباہ ہونے والی ہے وہ چیز جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور غلط ہے جو وہ کر رہے ہیں کیونکہ ان کا ان معبودوں کو پکارنا باطل، یہ معبود خود باطل، وہ عمل جو وہ کرتے ہیں باطل اور اس کی غرض و غایت باطل ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا قال لهم موسى: {إنَّ هؤلاء مُتَبَّرٌ ما هم فيه وباطلٌ ما كانوا يعملونَ}: لأن دعاءهم إياها باطلٌ وهي باطلة بنفسها؛ فالعمل باطلٌ وغايته باطلةٌ.