اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے پار اتارا تو وہ ایسے لوگوں پر آئے جو اپنے کچھ بتوں پر جمے بیٹھے تھے، کہنے لگے اے موسیٰ! ہمارے لیے کوئی معبود بنا دے، جیسے ان کے کچھ معبود ہیں؟ اس نے کہا بے شک تم ایسے لوگ ہو جو نادانی کرتے ہو۔
En
اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا کے پار اتارا تو وہ ایسے لوگوں کے پاس جا پہنچے جو اپنے بتوں (کی عبادت) کے لیے بیٹھے رہتے تھے۔ (بنی اسرائیل) کہنے لگے کہ موسیٰ جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں۔ ہمارے لیے بھی ایک معبود بنا دو۔ موسیٰ نے کہا کہ تم بڑے ہی جاہل لوگ ہو
اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار اتار دیا۔ پس ان لوگوں کا ایک قوم پر گزر ہوا جو اپنے چند بتوں سے لگے بیٹھے تھے، کہنے لگے اے موسیٰ! ہمارے لیے بھی ایک معبود ایسا ہی مقرر کر دیجئے! جیسے ان کے یہ معبود ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ واقعی تم لوگوں میں بڑی جہالت ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَجٰؔوَزْنَابِبَنِیْۤاِسْرَآءِیْلَالْبَحْرَ ﴾”اور پار اتار دیا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے“ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر سمندر سے پار کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو بنی اسرائیل کے سامنے ہلاک کر ڈالا۔ ﴿ فَاَتَوْا ﴾”پس وہ پہنچے۔“ یعنی ان کا گزر ہوا ﴿ عَلٰىقَوْمٍیَّعْكُفُوْنَعَلٰۤىاَصْنَامٍلَّهُمْ﴾”ایک قوم پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگی ہوئی تھی۔“ یعنی وہ ان بتوں کے پاس ٹھہرتے تھے، ان سے برکت حاصل کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ﴿ قَالُوْا ﴾ بنی اسرائیل نے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی بنا پر، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات دکھائے تھے، اپنے نبی موسیٰ علیہ السلام سے کہا ﴿ یٰمُوْسَىاجْعَلْلَّنَاۤاِلٰهًاكَمَالَهُمْاٰلِهَةٌ﴾”اے موسیٰ! جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنادو۔“ یعنی تو ہمارے لیے بھی مشروع کر دے کہ ہم بھی بتوں کو معبود بنائیں جیسے ان لوگوں نے بتوں کو معبود بنایا ہوا ہے۔
﴿ قَالَ ﴾موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا ﴿ اِنَّـكُمْقَوْمٌتَجْهَلُوْنَ ﴾”تم لوگ تو جہالت کا ارتکاب کرتے ہو“ اس شخص کی جہالت سے بڑھ کر کون سی جہالت ہو سکتی ہے جو اپنے رب اور خالق سے جاہل ہے اور چاہتا ہے کہ وہ غیر اللہ کو اس کا ہمسر بنائے، جو کسی نفع نقصان کا مالک نہیں اور نہ زندگی اور موت اور دوبارہ اٹھایا جانا اس کے اختیار میں ہے؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وجاوزنا ببني إسرائيل البحر}: بعدما أنجاهم الله من عدوِّهم فرعون وقومه وأهلكهم الله، وبنو إسرائيل ينظرون، {فأتَوْا}؛ أي: مرُّوا {على قوم يعكُفون على أصنامٍ لهم}؛ أي: يقيمون عندها ويتبرَّكون بها ويعبُدونها، فقالوا من جهلهم وسَفَهِهم لنبيِّهم موسى بعدما أراهم الله من الآيات ما أراهم: {يا موسى اجعلْ لنا إلهاً كما لهم آلهةٌ}؛ أي: اشرع لنا أن نتَّخذ أصناماً آلهة كما اتَّخذها هؤلاء، فقال لهم موسى: {إنَّكم قومٌ تجهلونَ}: وأيُّ جهل أعظم من جَهِل ربَّه وخالقَه، وأراد أن يسوِّيَ به غيره ممَّن لا يملِكُ نفعاً ولا ضرًّا ولا موتاً ولا حياةً ولا نشوراً؟!
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔