تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 140

قَالَ اَغَیۡرَ اللّٰہِ اَبۡغِیۡکُمۡ اِلٰـہًا وَّ ہُوَ فَضَّلَکُمۡ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۴۰﴾
کہا کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی معبود تلاش کروں؟ حالانکہ اس نے تمھیں جہانوں پر فضیلت بخشی ہے۔ En
(اور یہ بھی) کہا کہ بھلا میں خدا کے سوا تمہارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں حالانکہ اس نے تم کو تمام اہل عالم پر فضیلت بخشی ہے
En
فرمایا کیا اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کو تمہارا معبود تجویز کردوں؟ حاﻻنکہ اس نے تم کو تمام جہان والوں پر فوقیت دی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

فرمایا ﴿ قَالَ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْغِیْؔكُمْ اِلٰهًا کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں۔ یعنی کیا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل معبود ہے، تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ﴿ وَّهُوَ فَضَّلَكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ حالانکہ اس نے تمھیں تمام دنیا پر فضیلت بخشی ہے اور اس فضیلت کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنو.... اور شکر گزاری یہ ہے کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو عبادت کا مستحق جانو اور ہر اس ہستی کا انکار کرو جسے اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا جاتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قال أغيرَ الله أبغيكم إلهاً}؛ أي: أطلب لكم إلهاً غير الله المألوه الكامل في ذاته وصفاته وأفعاله. {وهو فضَّلكم على العالمين}: فيقتضي أن تقابلوا فضله وتفضيله بالشكرِ، وذلك بإفراد الله وحدَه بالعبادة والكفرِ بما يُدعى من دونه.