تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 131

فَاِذَا جَآءَتۡہُمُ الۡحَسَنَۃُ قَالُوۡا لَنَا ہٰذِہٖ ۚ وَ اِنۡ تُصِبۡہُمۡ سَیِّئَۃٌ یَّطَّیَّرُوۡا بِمُوۡسٰی وَ مَنۡ مَّعَہٗ ؕ اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓئِرُہُمۡ عِنۡدَ اللّٰہِ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۳۱﴾
تو جب ان پر خوش حالی آتی تو کہتے یہ تو ہمارے ہی لیے ہے اور اگر انھیں کوئی تکلیف پہنچتی تو موسیٰ اور اس کے ساتھ والوں کے ساتھ نحوست پکڑتے۔ سن لو ! ان کی نحوست تو اللہ ہی کے پاس ہے اور لیکن ان کے اکثر نہیں جانتے۔ En
تو جب ان کو آسائش حاصل ہوتی تو کہتے کہ ہم اس کے مستحق ہیں۔ اور اگر سختی پہنچتی تو موسیٰ اور ان کے رفیقوں کی بدشگونی بتاتے۔ دیکھو ان کی بدشگونی خدا کے ہاں مقرر ہے لیکن ان میں اکثر نہیں جانتے
En
سو جب ان پر خوشحالی آجاتی تو کہتے کہ یہ تو ہمارے لیے ہونا ہی چاہئے اور اگر ان کو کوئی بدحالی پیش آتی تو موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کی نحوست بتلاتے۔ یاد رکھو کہ ان کی نحوست اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَاِذَا جَآءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ پس جب پہنچتی ان کو بھلائی یعنی جب انھیں شادابی اور رزق میں کشادگی حاصل ہوتی۔ ﴿ قَالُوْا لَنَا هٰؔذِهٖ تو کہتے ہم اس کے مستحق تھے اور اللہ تعالیٰ کے شکر گزار نہ ہوتے۔ ﴿ وَاِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ اور اگر پہنچتی ان کو کوئی برائی یعنی جب ان پر قحط اور خشک سالی وارد ہوتی ﴿ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰؔى وَمَنْ مَّعَهٗ تو نحوست بتلاتے موسیٰ کی اور اس کے ساتھیوں کی یعنی وہ کہتے کہ اس تمام مصیبت کا سبب موسیٰ علیہ السلام کی آمد اور بنی اسرائیل کا ان کی اتباع کرنا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىِٕرُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ ان کی بدشگونی تو (اللہ کی قضا و قدر سے) اس کے ہاں مقدر ہے اور یہ معاملہ ایسے نہیں جیسے وہ کہتے ہیں بلکہ ان کا کفر اور ان کے گناہ ہی بدشگونی کا اصل سبب ہیں ﴿ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے بنابریں وہ یہ سب کچھ کہتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فإذا جاءتهم الحسنةُ}؛ أي: الخصب وإدرار الرزق، {قالوا لنا هذه}؛ أي: نحن مستحقُّون لها، فلم يشكروا الله عليها، {وإن تصِبْهم سيئةٌ}؛ أي: قحط وجدب، {يطَّيَّروا بموسى ومن معه}؛ أي: يقولوا: إنما جاءنا بسبب مجيء موسى واتباع بني إسرائيل له. قال الله تعالى: {ألا إنَّما طائِرُهم عند الله}؛ أي: بقضائه وقدرته، ليس كما قالوا، بل إن ذنوبهم وكفرهم هو السبب في ذلك، بل أكثرهم لا يعلمونَ؛ أي: فلذلك قالوا ما قالوا.