تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 132

وَ قَالُوۡا مَہۡمَا تَاۡتِنَا بِہٖ مِنۡ اٰیَۃٍ لِّتَسۡحَرَنَا بِہَا ۙ فَمَا نَحۡنُ لَکَ بِمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۳۲﴾
اور انھوں نے کہا تو ہمارے پاس جو نشانی بھی لے آئے، تاکہ ہم پر اس کے ساتھ جادو کرے تو ہم تیری بات ہرگز ماننے والے نہیں۔ En
اور کہنے لگے کہ تم ہمارے پاس (خواہ) کوئی ہی نشانی لاؤ تاکہ اس سے ہم پر جادو کرو۔ مگر ہم تم پر ایمان لانے والے نہیں ہیں
En
اور یوں کہتے کیسی ہی بات ہمارے سامنے لاؤ کہ ان کے ذریعہ سے ہم پر جادو چلاؤ جب بھی ہم تمہاری بات ہر گز نہ مانیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَقَالُوْا اور انھوں نے کہا۔ یعنی انھوں نے موسیٰ علیہ السلام پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باطل پر قائم رہیں گے۔ ﴿ مَهْمَا تَاْتِنَا بِهٖ مِنْ اٰیَةٍ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ یعنی ہمارے ہاں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ تو جادوگر ہے تو جو بھی کوئی معجزہ لے کر آئے ہمیں قطعی یقین ہے کہ وہ جادو ہے اس لیے ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں نہ تیری تصدیق کرتے ہیں۔ یہ عناد کی انتہا ہے جس نے کفار کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ ان پر کوئی معجزہ نازل ہو یا نہ ہو ان کے لیے حالات برابر ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وقالوا}: مبيِّنين لموسى أنهم لا يزالون ولا يزولون عن باطلهم: {مهما تأتِنا به من آيةٍ لِتَسْحَرَنا بها فما نحن لك بمؤمنين}؛ أي: قد تقرَّر عندنا أنك ساحرٌ؛ فمهما جئت بآية؛ جزمنا أنها سحرٌ؛ فلا نؤمن لك ولا نصدِّق. وهذا غاية ما يكون من العناد أن يبلغ بالكافرين إلى أن تستوي عندهم الحالات سواء نزلت عليهم الآيات أم لم تنزل.