تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس آخری مدت میں آل فرعون کے ساتھ جو معاملہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا حال بیان فرماتا ہے کہ قوموں کے بارے میں اس کی سنت اور عادت یہ ہے کہ وہ سختیوں اور تکلیفوں کے ذریعے سے ان کو آزماتا ہے شاید کہ وہ اس کے سامنے فروتنی کا اظہار کریں ﴿ وَلَقَدْاَخَذْنَاۤاٰلَفِرْعَوْنَبِالسِّنِیْنَ ﴾”ہم نے ان پر خشک سالی اور قحط کو مسلط کر دیا۔“﴿وَنَقْ٘صٍمِّنَالثَّ٘مَرٰتِلَعَلَّهُمْیَذَّكَّـرُوْنَ﴾”اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں۔“ یعنی ان پر جو قحط سالی مسلط کی اور جو مصیبت نازل کی گئی شاید وہ اس سے نصیحت پکڑیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہے، شاید وہ اپنے کفر سے رجوع کریں۔ مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اپنے ظلم اور فساد پر بدستور جمے رہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
قال الله تعالى في بيان ما عامل به آلَ فرعون في هذه المدة الأخيرة ـ إنها على عادته وسنته في الأمم أن يأخُذَهم {بالبأساء والضرَّاء لعلهم يضَّرَّعون} الآيات ـ: {ولقد أخذنا آل فرعون بالسنين}؛ أي: بالدُّهور والجدب، {ونقص من الثمرات لعلهم يذَّكَّرون}؛ أي: يتَّعظون أنَّ ما حلَّ بهم وأصابهم معاتبة من الله لهم لعلَّهم يرجِعون عن كفرهم، فلم ينجعْ فيهم ولا أفاد، بل استمرُّوا على الظُّلم والفساد.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔