تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 129

قَالُوۡۤا اُوۡذِیۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِیَنَا وَ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا ؕ قَالَ عَسٰی رَبُّکُمۡ اَنۡ یُّہۡلِکَ عَدُوَّکُمۡ وَ یَسۡتَخۡلِفَکُمۡ فِی الۡاَرۡضِ فَیَنۡظُرَ کَیۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۲۹﴾٪
انھوں نے کہا ہمیں اس سے پہلے ایذا دی گئی کہ تو ہمارے پاس آئے اور اس کے بعد بھی کہ تو ہمارے پاس آیا۔ اس نے کہا تمھارا رب قریب ہے کہ تمھارے دشمن کو ہلاک کر دے اور تمھیں زمین میں جانشین بنا دے، پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔ En
وہ بولے کہ تمہارے آنے سے پہلے بھی ہم کو اذیتیں پہنچتی رہیں اور آنے کے بعد بھی۔ موسیٰ نے کہا کہ قریب ہے کہ تمہارا پروردگار تمہارے دشمن کو ہلاک کردے اور اس کی جگہ تمہیں زمین میں خلیفہ بنائے پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو
En
قوم کے لوگ کہنے لگے کہ ہم تو ہمیشہ مصیبت ہی میں رہے، آپ کی تشریف آوری سے قبل بھی اور آپ کی تشریف آوری کے بعد بھی۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ بہت جلد اللہ تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے گا اور بجائے ان کے تم کو اس سرزمین کا خلیفہ بنا دے گا پھر تمہارا طرز عمل دیکھے گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قَالُوْۤا بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰ علیہ السلام سے کہا ﴿اُوْذِیْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِیَنَا ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا اور آپ کے آنے کے بعد بھی ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ جناب موسیٰ علیہ السلام نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمْ اَنْ یُّهْلِكَ عَدُوَّؔكُمْ وَیَسْتَخْلِفَكُمْ۠ فِی الْاَرْضِ امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَیَنْظُ٘رَؔ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قالوا}: لموسى متضجِّرين من طول ما مكثوا في عذاب فرعون وأذيَّته: {أوذينا من قبل أن تأتِيَنا}: فإنهم يسوموننا سوء العذاب يذبِّحون أبناءنا ويستحيون نساءنا، {ومن بعدِ ما جئتنا}: كذلك، فقال لهم موسى مرجياً لهم بالفرج والخلاص من شرِّهم: {عسى ربُّكم أن يُهْلِكَ عدوَّكم ويستخلِفَكم في الأرض}؛ أي: يمكِّنكم فيها ويجعل لكم التدبير فيها، {فينظرَ كيف تعملونَ}: هل تشكُرون أم تكفُرون؟ وهذا وعدٌ أنجزه الله لمَّا جاء الوقت الذي أراده الله.