ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأعراف (7) — آیت 129

قَالُوۡۤا اُوۡذِیۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِیَنَا وَ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا ؕ قَالَ عَسٰی رَبُّکُمۡ اَنۡ یُّہۡلِکَ عَدُوَّکُمۡ وَ یَسۡتَخۡلِفَکُمۡ فِی الۡاَرۡضِ فَیَنۡظُرَ کَیۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۲۹﴾٪
انھوں نے کہا ہمیں اس سے پہلے ایذا دی گئی کہ تو ہمارے پاس آئے اور اس کے بعد بھی کہ تو ہمارے پاس آیا۔ اس نے کہا تمھارا رب قریب ہے کہ تمھارے دشمن کو ہلاک کر دے اور تمھیں زمین میں جانشین بنا دے، پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔ En
وہ بولے کہ تمہارے آنے سے پہلے بھی ہم کو اذیتیں پہنچتی رہیں اور آنے کے بعد بھی۔ موسیٰ نے کہا کہ قریب ہے کہ تمہارا پروردگار تمہارے دشمن کو ہلاک کردے اور اس کی جگہ تمہیں زمین میں خلیفہ بنائے پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو
En
قوم کے لوگ کہنے لگے کہ ہم تو ہمیشہ مصیبت ہی میں رہے، آپ کی تشریف آوری سے قبل بھی اور آپ کی تشریف آوری کے بعد بھی۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ بہت جلد اللہ تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے گا اور بجائے ان کے تم کو اس سرزمین کا خلیفہ بنا دے گا پھر تمہارا طرز عمل دیکھے گا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 129) ➊ {قَالُوْا اُوْذِيْنَا مِنْ قَبْلِ …: } پہلے بھی ہمارے بچوں کو قتل کیا جاتا رہا ہے، ہم سے مشقت کے کام لیے جاتے رہے ہیں اور ہماری آزادی سلب رہی ہے، اب آپ کے آنے کے بعد بھی وہی غلامی اور مشقت ہے اور دوبارہ بچوں کے قتل کے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔
➋ { فَيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُوْنَ:} موسیٰ علیہ السلام نے بشارت دی کہ عن قریب تمھارا پروردگار تمھارے دشمن کو ہلاک کرکے تمھیں آزادی اور حکومت دینے والا ہے اور دیکھنے والا ہے کہ تم اس کا شکر کرتے اور احکام بجا لاتے ہو یا تم بھی ناشکری اور نافرمانی کرنے لگتے ہو؟معلوم ہوا کہ آزادی اور حکومت اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ کفار کی غلامی پر راضی رہنا مسلمان کو زیب نہیں دیتا۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ کلام نقل فرمایا مسلمانوں کے سنانے کو، یہ سورت مکی ہے، اس وقت مسلمان بھی ایسے ہی مظلوم تھے، پھر بشارت پہنچی پردے میں۔ (موضح)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

129۔ 1 یہ اشارہ ہے ان مظالم کی طرف جو ولادت موسیٰ ؑ سے قبل ان پر ہوتے رہے۔ 129۔ 2 جادوگروں کے واقعہ کے بعد ظلم و ستم کا یہ نیا دور جو موسیٰ ؑ کے آنے کے بعد شروع ہوا۔ 129۔ 3 حضرت موسیٰ ؑ نے تسلی دی کہ گھبراؤ نہیں بہت جلد اللہ تمہارے دشمن کو ہلاک کردے گا، زمین میں تمہیں اقتدار عطا فرمائے گا پھر تمہاری آزمائش کا نیا دور شروع ہوگا۔ ابھی تو تکلیفوں کے ذریعے سے آزمائے جا رہے ہو، پھر انعام و اکرام کی بارش کرکے اور اختیار اور اقتدار سے بہرہ مند کرکے تمہیں آزمایا جائے گا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

129۔ وہ موسیٰ سے کہنے لگے: ”تمہارے آنے سے پہلے بھی ہمیں دکھ دیا جاتا تھا اور تمہارے آنے کے بعد بھی دیا جا رہا ہے“ موسیٰ نے جواب دیا: ”عنقریب تمہارا پروردگار تمہارے دشمن کو ہلاک [126] کر دے گا اور اس سر زمین میں تمہیں خلیفہ بنا دے گا پھر دیکھے گا کہ تم کیسے عمل کرتے ہو“
[126] بنی اسرائیل پر مصائب، صبر کی تلقین اور وعدہ فتح و نصرت:۔
جب بنی اسرائیل کو دوبارہ ایسی سخت آزمائش میں ڈال دیا گیا وہ سخت پریشان ہو گئے اور سیدنا موسیٰؑ سے فریاد کے طور پر کہنے لگے کہ تمہارے آنے سے پہلے بھی ہم پر یہی ظلم و ستم ہوتا رہا اور اب تم پر ایمان لانے کی بعد بھی ہم دوبارہ وہی ظلم و ستم سہہ رہے ہیں۔ موسیٰؑ نے انہیں صبر کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کا ظلم توڑ کے رکھ دیتا ہے بس تم اللہ سے مدد مانگتے رہو عنقریب وہ تمہارے اس دشمن کو ہلاک کر کے تمہیں اس سرزمین میں حکومت عطا کرے گا پھر تمہاری ایک دوسرے انداز سے آزمائش ہو گی آج تمہاری آزمائش سختیوں اور مظالم سے ہو رہی ہے کہ تم صبر سے برداشت کرتے ہو یا نہیں پھر تمہیں حکومت عطا کر کے دیکھے گا کہ تم حاکم بن کر کیسے کام کرتے ہو۔ واضح رہے کہ جس دور میں یہ سورۃ نازل ہوئی اس دور میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی ایسے ہی مصائب و شدائد کے دور سے گزر رہے تھے اور بمصداق گفتہ آید در حدیث دیگراں، صحابہ کرامؓ کو بھی صبر کی تلقین کی جا رہی ہے اور ان سے حکومت ملنے کا وعدہ فرمایا جا رہا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قَالُوْۤا بنی اسرائیل نے، جو کہ طویل عرصے سے فرعون کی تعذیب اور عقوبت برداشت کرتے کرتے تنگ آچکے تھے... موسیٰ علیہ السلام سے کہا ﴿اُوْذِیْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِیَنَا ہمیں تکلیفیں دی گئیں آپ کے آنے سے پہلے کیونکہ انھوں نے ہمیں بدترین عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا وہ ہمارے بیٹوں کو قتل کر دیا کرتے تھے اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَمِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا اور آپ کے آنے کے بعد بھی ایسا ہی سلوک ہے۔ ﴿ قَالَ جناب موسیٰ علیہ السلام نے ان کو آل فرعون کے شر سے نجات اور اچھے وقت کی امید دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ عَسٰؔى رَبُّكُمْ اَنْ یُّهْلِكَ عَدُوَّؔكُمْ وَیَسْتَخْلِفَكُمْ۠ فِی الْاَرْضِ امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنادے یعنی زمین میں تمھیں حکومت عطا کر دے اور زمین کا اقتدار اور تدبیر تمھارے سپرد کر دے۔ ﴿ فَیَنْظُ٘رَؔ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ پھر دیکھے تم کیسے کام کرتے ہو اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہو یا ناشکری کرتے ہو۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ تھا اور جب وہ وقت آ گیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا تو اس نے یہ وعدہ پورا کر دیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قالوا}: لموسى متضجِّرين من طول ما مكثوا في عذاب فرعون وأذيَّته: {أوذينا من قبل أن تأتِيَنا}: فإنهم يسوموننا سوء العذاب يذبِّحون أبناءنا ويستحيون نساءنا، {ومن بعدِ ما جئتنا}: كذلك، فقال لهم موسى مرجياً لهم بالفرج والخلاص من شرِّهم: {عسى ربُّكم أن يُهْلِكَ عدوَّكم ويستخلِفَكم في الأرض}؛ أي: يمكِّنكم فيها ويجعل لكم التدبير فيها، {فينظرَ كيف تعملونَ}: هل تشكُرون أم تكفُرون؟ وهذا وعدٌ أنجزه الله لمَّا جاء الوقت الذي أراده الله.