اور فرعون کی قوم کے سرداروں نے کہا کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑے رکھے گا، تاکہ وہ زمین میں فساد پھیلائیں اور وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے؟ اس نے کہا ہم ان کے بیٹوں کو بری طرح قتل کریں گے اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھیں گے اور یقینا ہم ان پر قابو رکھنے والے ہیں۔
En
اور قومِ فرعون میں جو سردار تھے کہنے لگے کہ کیا آپ موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ دیجیے گا کہ ملک میں خرابی کریں اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دست کش ہوجائیں۔ وہ بولے کہ ہم ان کے لڑکوں کو قتل کرڈالیں گے اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دیں گے اور بےشک ہم ان پر غالب ہیں
اور قوم فرعون کے سرداروں نے کہا کہ کیا آپ موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کو یوں ہی رہنے دیں گے کہ وه ملک میں فساد کرتے پھریں، اور وه آپ کو اور آپ کے معبودوں کو ترک کئے رہیں۔ فرعون نے کہا کہ ہم ابھی ان لوگوں کے بیٹوں کو قتل کرنا شروع کر دیں گے اور عورتوں کو زنده رہنے دیں گے اور ہم کو ان پر ہر طرح کا زور ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہ تو تھا ان جادوگروں کا حال، فرعون، اس کے سرداروں اور ان کے پیروکار عوام نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ تکبر کیا اور ظلم کے ساتھ ان کا انکار کر دیا۔ انھوں نے فرعون کو موسیٰ علیہ السلام پر ہاتھ ڈالنے پر اکساتے ہوئے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں سب باطل اور فاسد ہے… کہا ﴿ اَتَذَرُمُوْسٰؔىوَقَوْمَهٗلِیُفْسِدُوْافِیالْاَرْضِ ﴾”کیا تم موسیٰ او راس کی قوم کو چھوڑ دو گے کہ ملک میں خرابی کریں۔“ یعنی کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہے ہو تاکہ وہ دعوت توحید، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی تلقین کے ذریعے سے زمین میں فساد پھیلائے۔ حالانکہ ان اخلاق و اعمال میں زمین کی اصلاح ہے اور جس راستے پر فرعون اور اس کے سردار گامزن تھے، وہ درحقیقت فساد کا راستہ ہے مگر ان ظالموں کو کوئی پروا نہ تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔
﴿ وَیَذَرَكَوَاٰلِهَتَكَ﴾”وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دے“ اور لوگوں کو تیری اطاعت کرنے سے روک دے۔ ﴿ قَالَ ﴾ فرعون نے ان کو جواب دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ اس حالت میں رکھے گا جس سے ان کی آبادی اور تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس طرح فرعون اور اس کی قوم.... بزعم خود.... ان کے ضرر سے محفوظ ہو جائیں گے، چنانچہ کہنے لگا: ﴿ سَنُقَتِّلُاَبْنَآءَهُمْوَنَسْتَحْیٖنِسَآءَهُمْ﴾”ہم ان کے بیٹوں کو قتل اور عورتوں کو زندہ رکھیں گے“ یعنی ان کی عورتوں کو باقی رکھیں گے اور انھیں قتل نہیں کریں گے۔ جب تک یہ حکمت عملی اختیار کریں گے تو ہم ان کی کثرت تعداد سے محفوظ رہیں گے اور ہم باقی ماندہ لوگوں سے خدمت بھی لیتے رہیں گے اور ان سے جو کام چاہیں گے لیں گے۔ ﴿ وَاِنَّافَوْقَهُمْقٰ٘هِرُوْنَ﴾”اور ہم ان پر غالب ہیں “ یعنی وہ ہماری حکمرانی اور تغلب سے باہر نکلنے پر قادر نہ ہوں گے۔ یہ فرعون کا انتہا کو پہنچا ہوا ظلم و جبر، اس کی سرکشی اور بے رحمی تھی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا وفرعون وملؤه وعامتهم المتبعون للملأ قد استكبروا عن آيات الله وجحدوا بها ظلماً وعلوًّا وقالوا لفرعون مهيجين له على الإيقاع بموسى وزاعمين أن ما جاء باطل وفساد: {أتذرُ موسى وقومَه ليفسِدوا في الأرض}: بالدعوة إلى الله وإلى مكارم الأخلاق ومحاسن الأعمال التي هي الصلاح في الأرض وما هم عليه هو الفساد، ولكنَّ الظالمين لا يبالون بما يقولون، {وَيَذَرَكَ وآلهتَكَ}؛ أي: يدعك أنت وآلهتك، وينهى عنك، ويصد الناس عن اتباعك، فقال فرعونُ مجيباً لهم بأنه سيدع بني إسرائيل مع موسى بحالةٍ لا ينمون فيها ويأمنُ فرعونُ وقومُه بزعمه من ضررهم: {سَنُقَتِّلُ أبناءَهم ونستحيي نساءَهم}؛ أي: نستبقيهنَّ فلا نقتلهنَّ؛ فإذا فعلْنا ذلك؛ أمنَّا مِن كثرتِهِم، وكنَّا مستخدمين لباقيهم ومسخِّرين لهم على ما نشاء من الأعمال، {وإنَّا فوقَهم قاهرونَ}: لا خروج لهم عن حكمنا ولا قدرة. وهذا نهاية الجَبَروت من فرعون والعتوِّ والقسوة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔