تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ يَذَرَكَ وَ اٰلِهَتَكَ: ” آلِهَةٌ “} یہ {” اِلٰهٌ “} کی جمع ہے، جس کا معنی معبود ہے، یعنی وہ تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑے رکھیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فرعون کے بھی کچھ معبود تھے جن کی وہ عبادت کرتا تھا۔ بعض صحابہ کی قراء ت میں {”اِلَاهَتَكَ“} ہے، {” اِلَاهَةٌ “} کا معنی عبادت ہے، یعنی وہ تجھے اور تیری عبادت کو چھوڑے رکھیں، یہ بھی اگرچہ درست ہے مگر مشہور قراءت پہلی ہی ہے۔ اس لیے اہل علم نے اس کی کئی توجیہات کی ہیں اور وہ سبھی ممکن ہیں۔ ایک توجیہ اس کی یہ ہے کہ وہ واقعی ربِ اعلیٰ ہونے کے اعلان کے باوجود خود کئی معبودوں کی پرستش کرتا تھا اور ان معبودوں کے تقدس کا عقیدہ اس کی قوم میں بھی موجود تھا، مثلاً گائے کی پرستش تو عام تھی، جس کے نتیجے میں ان سے میل جول اور ان کی محکومیت کی وجہ سے بنی اسرائیل میں بھی یہ عقیدہ در آیا تھا۔ جس کی دلیل آزاد ہونے کے بعد بھی گائے ذبح کرنے کے حکم پر ان کے بہانے اور موسیٰ علیہ السلام کے کوہِ طور پر جانے کے بعد سامری کا بچھڑا بنا کر قوم کو اس کی عبادت پر لگانا ہے۔ مصری تہذیب ہندوؤں سے ملتی جلتی تھی۔ مشرکانہ مذاہب میں عجیب پیچیدگی پائی جاتی ہے، عموماً ان کے ہاں اصل خدا کسی انسان میں اتر آتا ہے جو مسلمان صوفیا کے ہاں حلول کے نام سے معروف ہے۔ فرعون اپنے آپ کو ان تمام معبودوں کا نمائندہ قرار دے کر اپنے آپ کو ربِ اعلیٰ کہلاتا تھا اور اپنے سرداروں سے کہتا تھا: «{ مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرِيْ }» [القصص: ۳۸] ”مجھے اپنے سوا تمھارا کوئی معبود معلوم نہیں۔“ یہ وہی بات ہے جو بعض مسلمانی کا دعویٰ کرنے والوں نے کہی ہے
وہی جو مستوی عرش تھا خدا ہو کر
اتر پڑا ہے مدینے میں مصطفی ہو کر
مگر یہ لوگ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو اصلی خدا مان کر بھی بہت سے زندہ خداؤں، مثلاً مرشدوں اور مردہ خداؤں کی قبروں کی پرستش کرتے ہیں اور ان میں بھی اللہ کے ظہور کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ جب کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اس قسم کے تمام گندے عقیدوں سے بری ہیں۔
دوسری توجیہ یہ ہے کہ درحقیقت فرعون دہری تھا۔ کائنات کا کوئی بنانے والا مانتا ہی نہ تھا، اس کے نزدیک بادشاہ ہی معبود کا مقام رکھتا تھا کہ جو اس کے منہ سے نکلے وہی دین اور قانون ہے۔ اپنے سرداروں کے لیے یہ مقام وہ خود رکھتا تھا اور اس کے سردار اپنے اپنے علاقے کی رعایا کے لیے یہ مقام رکھتے تھے، چنانچہ اس نے اپنے بت بنوا کر لوگوں کے گھروں میں رکھے ہوئے تھے، جیسا کہ آج کل کے اکثر حکمران اپنی تصاویر اور مجسموں کے ذریعے سے لوگوں کے ذہنوں میں اپنی خدائی بٹھاتے ہیں، کمیونسٹ حکمران سٹالن، لینن اور ماؤزے تنگ بھی خدا کے منکر ہونے کے باوجود لوگوں کے دماغوں میں اپنی خدائی کا تاثر پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔ جمہوری حکمران بھی اس کوشش میں حتی الوسع کمی نہیں کرتے، اگرچہ وہ نام عوام کا استعمال کرتے ہیں۔
تیسری توجیہ یہ ہے کہ حاکمیت میں وہ اپنے سوا کسی کو معبود نہیں مانتا تھا، البتہ غیبی مدد کرنے والے کچھ معبود اس نے بھی رکھے ہوئے تھے، جس طرح آج کل بعض حکمران قانون اپنا چلاتے ہیں مگر غیبی مدد حاصل کرنے کے لیے کئی ہستیوں کی نیاز دیتے رہتے ہیں۔ چنانچہ وہ کعبہ کی طرح پختہ قبروں کو عرق گلاب سے غسل دیتے اور بزرگوں کو کرنی والا سمجھتے ہیں اور کچھ کچھ اللہ کو بھی مان لیتے ہیں، مگر کیا مجال کہ اس کا کوئی قانون عمل میں لائیں یا لانے دیں۔
➌ { قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَآءَهُمْ …:} یعنی ہم جو ظلم و ستم موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش سے پہلے بنی اسرائیل پر کرتے تھے اس کا سلسلہ پھر سے شروع کریں گے، اس طرح یہ تباہ ہو جائیں گے اور ان کا تخم تک باقی نہیں رہے گا۔ ان کے مرد مارے جائیں گے اور صرف عورتیں بچیں گی، وہ کیا کر سکیں گی، ان کو ہم لونڈیاں بنا کر اپنے گھروں میں رکھیں گے۔ ابھی تک اس کی جرأت نہ کرنے کے لیے اس نے یہ حیلہ تراشا کہ ایسی کیا جلدی ہے، ہم ان پر پوری طرح قابو رکھتے ہیں، جب چاہیں گے ایسا کر لیں گے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
«وَيَذَرَكَ» میں بعض تو کہتے ہیں واؤ حالیہ ہے یعنی در آنحالیکہ موسیٰ علیہ السلام اور قوم موسیٰ نے تیری پرستش چھوڑ رکھی ہے، پھر بھی تو انہیں زندہ رہنے دیتا ہے؟
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی قرأت میں ہے: «وَقَدْ تَرَکُوْکَ اَنْ يَّعْبُدْوْکَ وَالِھَتَکَ» ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:26/6]
اور قول ہے کہ واؤ عاطفہ ہے یعنی تو نے انہیں چھوڑ رکھا ہے۔ جس فساد کو یہ برپا کر رہے ہیں اور تیرے معبودوں کے چھوڑنے پر اکسا رہے ہیں۔
بعض کی قرأت «اِلَاھَتَکَ» ہے یعنی تیری عبادت سے۔
بعض کا بیان ہے کہ فرعون بھی کسی کو پوجا کرتا تھا۔ ایک قول ہے کہ اسے وہ پوشیدہ راز میں رکھتا تھا۔
ایک روایت میں ہے کہ اس کا بت اس کی گردن میں ہی لٹکتا رہتا تھا جسے یہ سجدہ کرتا تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی بہترین گائے پر فرعون کی نگاہ پڑی جاتی تو لوگوں سے کہہ دیتا کہ اس کی پرستش کرو۔ اسی لیے سامری نے بھی بنی اسرائیل کے لیے بچھڑا نکالا۔
پہلے سرکش فرعون ان مساکین کے ساتھ یہی کر چکا تھا جبکہ اسے یہ منظور تھا کہ موسیٰ علیہ السلام پیدا ہی نہ ہوں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا ارادہ غالب آیا اور موسیٰ علیہ السلام باوجود اس کے حکم کے زندہ و سالم بچے رہے۔ اب دوبارہ اس نے یہی قانون جاری کیا تاکہ بنی اسرائیل کی جمعیت ٹوٹ جائے، یہ کمزور پڑ جائیں اور بالاخر ان کا نام مٹ جائے لیکن قدرت نے اس کا بھی خلاف کر دکھایا، اس کو اور اس کی قوم کو غارت کر دیا اور بنی اسرائیل کو اوج و ترقی پر پہنچا دیا۔
موسیٰ علیہ السلام نے اس تکبر کے مقابلے میں تحمل اور اس کے ظلم کے مقابلے میں صبر سے کام لیا۔ اپنی قوم کو سمجھایا اور بتایا کہ اللہ فرما چکا ہے کہ انجام کے لحاظ سے تم ہی اچھے رہو گے۔ تم اللہ سے مدد چاہو اور صبر کرو۔ قوم والوں نے کہا: اے اللہ کے نبی علیہ السلام! آپ کی نبوت سے پہلے بھی ہم اسی طرح ستائے جاتے رہے، اسی ذلت و اہانت میں مبتلا رہے اور اب پھر یہی نوبت آئی ہے۔
آپ نے مزید تسلی دی اور فرمایا کہ گھبراؤ نہیں۔ یقین مانو کہ تمہارا بدخواہ ہلاک ہو گا اور تم کو اللہ تعالیٰ اوج پر پہنچائے گا۔ اس وقت وہ دیکھے گا کہ کون کتنا شکر بجا لاتا ہے؟ تکلیف کا ہٹ جانا، راحت کامل جانا انسان کو نہال نہال کر دیتا ہے۔ یہ پورے شکریئے کا وقت ہوتا ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا وفرعون وملؤه وعامتهم المتبعون للملأ قد استكبروا عن آيات الله وجحدوا بها ظلماً وعلوًّا وقالوا لفرعون مهيجين له على الإيقاع بموسى وزاعمين أن ما جاء باطل وفساد: {أتذرُ موسى وقومَه ليفسِدوا في الأرض}: بالدعوة إلى الله وإلى مكارم الأخلاق ومحاسن الأعمال التي هي الصلاح في الأرض وما هم عليه هو الفساد، ولكنَّ الظالمين لا يبالون بما يقولون، {وَيَذَرَكَ وآلهتَكَ}؛ أي: يدعك أنت وآلهتك، وينهى عنك، ويصد الناس عن اتباعك، فقال فرعونُ مجيباً لهم بأنه سيدع بني إسرائيل مع موسى بحالةٍ لا ينمون فيها ويأمنُ فرعونُ وقومُه بزعمه من ضررهم: {سَنُقَتِّلُ أبناءَهم ونستحيي نساءَهم}؛ أي: نستبقيهنَّ فلا نقتلهنَّ؛ فإذا فعلْنا ذلك؛ أمنَّا مِن كثرتِهِم، وكنَّا مستخدمين لباقيهم ومسخِّرين لهم على ما نشاء من الأعمال، {وإنَّا فوقَهم قاهرونَ}: لا خروج لهم عن حكمنا ولا قدرة. وهذا نهاية الجَبَروت من فرعون والعتوِّ والقسوة.