اور تو ہم سے اس کے سوا کس چیز کا بدلہ لے رہا ہے کہ ہم اپنے رب کی آیات پر ایمان لے آئے، جب وہ ہمارے پاس آئیں، اے ہمارے رب! ہم پر صبر انڈیل دے اور ہمیں اس حال میں فوت کر کہ فرماں بردار ہوں۔
En
اور اس کے سوا تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے کہ جب ہمارے پروردگار کی نشانیاں ہمارے پاس آگئیں تو ہم ان پر ایمان لے آئے۔ اے پروردگار ہم پر صبرواستقامت کے دہانے کھول دے اور ہمیں (ماریو تو) مسلمان ہی ماریو
اور تو نے ہم میں کونسا عیب دیکھا ہے بجز اس کے کہ ہم اپنے رب کے احکام پر ایمان لے آئے، جب وه ہمارے پاس آئے۔ اے ہمارے رب! ہمارے اوپر صبر کا فیضان فرما اور ہماری جان حالت اسلام پر نکال
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَمَاتَنْقِمُمِنَّاۤ ﴾”تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے۔“ یعنی وہ کون سی بری بات ہے جس پر تو ہماری نکیر کرتا ہے اور ہمیں دھمکی دیتا ہے۔ ہمارا کوئی گناہ نہیں ﴿ اِلَّاۤاَنْاٰمَنَّابِاٰیٰتِرَبِّنَالَمَّاجَآءَتْنَا﴾”سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آئیں “ پس اگر یہ گناہ ہے جس کو معیوب کہا جائے اور اس کے مرتکب کو سزا کا مستحق سمجھا جائے تو ہم نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، پھر جادوگروں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ انھیں ثابت قدمی عطا کرے اور انھیں صبر سے نوازے۔ ﴿ رَبَّنَاۤاَفْرِغْعَلَیْنَاصَبْرًا ﴾”ہم پر صبر عظیم کا فیضان کر“... جیسا کہ ”صَبْرًا“ میں نکرہ کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے... کیونکہ یہ بہت بڑا امتحان ہے جس میں جان کے جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پس اس امتحان میں صبر کی سخت ضرورت ہوتی ہے تاکہ دل مضبوط ہو اور مومن اپنے ایمان پر مطمئن ہو اور قلب سے بے یقینی کی کیفیت دور ہو جائے۔ ﴿ وَّتَوَفَّنَامُسْلِمِیْنَ ﴾”اور ہمیں مسلمان مارنا۔“ یعنی ہمیں اس حالت میں وفات دے کہ ہم تیرے تابع فرمان بندے اور تیرے رسول کی اطاعت کرنے والے ہوں۔ظاہر ہے کہ فرعون نے جو دھمکی دی تھی اس پر عمل کیا ہوگا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھا ہوگا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وما تَنقِمُ منَّا}؛ أي: وما تعيب منَّا على إنكارك علينا وتوعُّدك لنا؛ فليس لنا ذنبٌ {إلَّا أنْ آمنَّا بآيات ربِّنا لما جاءتْنا} ؛ فإنْ كان هذا ذنباً يُعاب عليه ويستحقُّ صاحبه العقوبة؛ فهو ذنبُنا. ثم دعوا الله أن يثبِّتهم ويصبِّرهم، فقالوا: {ربَّنا أفرغْ}؛ أي: أفض {عليْنا صبراً}؛ أي: عظيماً كما يدلُّ عليه التنكير؛ لأنَّ هذه محنة عظيمة تؤدي إلى ذهاب النفس، فيحتاج فيها من الصبر إلى شيء كثير؛ ليثبت الفؤاد ويطمئن المؤمن على إيمانِهِ ويزول عنه الانزعاج الكثير. {وتوفَّنا مسلمينَ}؛ أي: منقادين لأمرك متَّبعين لرسولك. والظاهر أنه أوقع بهم ما توعَّدهم عليه، وأنَّ الله تعالى ثبَّتهم على الإيمان.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔