تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأعراف (7) — آیت 117

وَ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰی مُوۡسٰۤی اَنۡ اَلۡقِ عَصَاکَ ۚ فَاِذَا ہِیَ تَلۡقَفُ مَا یَاۡفِکُوۡنَ ﴿۱۱۷﴾ۚ
اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی پھینک، تو اچانک وہ ان چیزوں کو نگلنے لگی جو وہ جھوٹ موٹ بنا رہے تھے۔ En
(اس وقت) ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ تم بھی اپنی لاٹھی ڈال دو۔ وہ فوراً (سانپ بن کر) جادوگروں کے بنائے ہوئے سانپوں کو (ایک ایک کرکے) نگل جائے گی
En
اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ اپنا عصا ڈال دیجئے! سو عصا کا ڈالنا تھا کہ اس نے ان کے سارے بنے بنائے کھیل کو نگلنا شروع کیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَاَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَلْ٘قِ عَصَاكَ اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے پس موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا ﴿فَاِذَا هِیَ وہ فوراً یعنی عصا دوڑتا ہوا سانپ بن گیا ﴿ تَلْقَفُ مَا یَ٘اْفِكُوْنَ اور انھوں نے جھوٹ اور شعبدہ بازی سے جو سانپ بنائے تھے، ان کو نگلتا گیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وأوحَيْنا إلى موسى أن ألقِ عصاك}: فألقاها، {فإذا هي}: حيَّةٌ تسعى فتلقفت جميعَ ما يأفِكونَ؛ أي: يكذِّبون به ويموِّهون.