کہا تم پھینکو۔ تو جب انھوں نے پھینکا، لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر دیا اور انھیں سخت خوف زدہ کر دیا اور وہ بہت بڑا جادو لے کر آئے۔
En
(موسیٰ نے) کہا تم ہی ڈالو۔ جب انہوں نے (جادو کی چیزیں) ڈالیں تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا (یعنی نظربندی کردی) اور (لاٹھیوں اور رسیوں کے سانپ بنا بنا کر) انہیں ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا
(موسیٰ علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم ہی ڈالو، پس جب انہوں نے ڈاﻻ تو لوگوں کی نظر بندی کر دی اور ان پر ہیبت غالب کر دی اور ایک طرح کا بڑا جادو دکھلایا
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿قَالَ ﴾موسیٰ علیہ السلام نے کہا ﴿اَلْقُوْا﴾”ڈالو تم“ تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ ان جادوگروں کے پاس کیا ہے اور موسیٰ علیہ السلام کے پاس کیا ہے ﴿فَلَمَّاۤاَلْقَوْا﴾”پس جب انھوں نے ڈالیں۔“ یعنی جب انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈالیں تو ان کے جادو کے سبب سے یوں لگا جیسے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن گئی ہیں جو بھاگتے پھر رہے ہیں۔ ﴿ سَحَرُوْۤااَعْیُنَالنَّاسِوَاسْتَرْهَبُوْهُمْوَجَآءُوْبِسِحْرٍعَظِیْمٍ﴾”اس طرح انھوں نے جادو کر کے ان کی نظر بندی کر دی اور اپنے جادو سے ان کو ڈرا دیا اور بہت بڑا جادو دکھایا۔“ جادو کی دنیا میں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فقالَ موسى: {ألقوا}: لأجل أن يرى الناسُ ما معهم وما مع موسى، {فلما ألقَوْا}: حبالَهم وعصيَّهم إذا هي من سحرهم كأنها حياتٌ تسعى، فسحروا {أعين الناس واسترهبوهم وجاؤوا بسحرٍ عظيم}: لم يوجدْ له نظيرٌ من السحر.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔