تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جب لوگوں کے ایک بہت بڑے مجمع کے سامنے جادوگر موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے میں آئے۔ ﴿قَالُوْا﴾ تو انھوں نے موسیٰ علیہ السلام کے معجزات کے بارے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ یٰمُوْسٰۤىاِمَّاۤاَنْتُ٘لْ٘قِیَ ﴾”اے موسیٰ! یا تو تم ڈالو۔“ یعنی تمھارے پاس جو کچھ ہے تم سامنے لاتے ہو۔ ﴿وَاِمَّاۤاَنْنَّـكُوْنَنَحْنُالْمُلْقِیْنَ ﴾”یا ہم ڈالتے ہیں۔“ یعنی ہم اپنا جادو دکھاتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فلما حضروا مع موسى بحضرة الخلق العظيم، {قالوا}: على وجه التألِّي وعدم المبالاة بما جاء به موسى، {يا موسى إما أن تُلْقِيَ}: ما معك، {وإما أن نكونَ نحنُ الملقينَ}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔